Urdu book · دینِ انسانیت

عبادت اور اخلاق

Urdu book, p. 165

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اس آدمی کی نماز اس کے لیے وبال ہے جس کا حال یہ ہو کہ وہ لوگوں کو چھوٹی چھوٹی چیزیں دینے میں بھی بخیل ہو (الماعون ، 7-4: 107)۔ حدیث میں ہے کہ اس آدمی کا روزہ روزہ نہیں جو بظاہر روزہ رکھے مگر وہ قولی اور عملی جھوٹ کو نہ چھوڑے (صحیح البخاری ، حدیث نمبر 1903)۔ قرآن میں ہے کہ مومن اس طرح صدقہ دیتا ہے کہ وہ لینے والے سے کوئی بدلہ یا شکر گزاری نہیں چاہتا (الدھر ، 76:9) حج کے بارے میں قرآن میں آیا ہے کہ حج میں نہ بیہودہ گوئی کرنا چاہیے اور نہ بے حکمی اور نہ لڑائی جھگڑا (البقرہ ، 2:197)۔ عبادت اور اخلاق کا ایک دوسرے سے جڑا ہونا فطرت کا عین تقاضا ہے۔ انسان کا ہر عمل اس کی نفسیات کے تحت ہوتا ہے۔ اور نفسیات میں تقسیم ممکن نہیں۔ آدمی کے اندر اگر صحیح معنوں میں عبادت کی نفسیات پیدا ہو جائے تو اس کے بعد اخلاق کی نفسیات بھی ضرور اس کے اندر پیدا ہو جائے گی۔ کسی کے اندر اگر خدا پرستی ہے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ اس کے اندر انسان دوستی بھی لازماً موجود ہوگی۔ عبادت کوئی رسمی اور وقتی چیز نہیں۔ عبادت ایک گہرا روحانی عمل ہے۔ جس آدمی کے اندر عبادت کی روح آجاۓ اس کی پوری شخصیت میں تواضع ، احتیاط ، خیر خواہی اور فضولیات سے پرہیز کا مزاج پیدا ہو جائے گا۔ اور یہی کیفیات اخلاق کی اصل ہیں۔ یہ لطیف کیفیات جب سماجی تعلقات میں ظاہر ہوں تو اسی کا دوسرا نام انسانی اخلاق ہے۔ ایک عبادت گزار لازمی طور پر انسانی خدمت گار بھی ہوتا ہے۔ اس کے اخلاق و عادات اور گفتار و کردار میں شرافت اور انسانیت کی روح بسی ہوئی ہوتی ہے۔ اگر ایک آدمی سچا خدا پرست ہو تو لازماً وہ سچا انسان دوست بھی ہوگا۔ یہ دونوں صفتیں کبھی ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوتیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page