Urdu book · دینِ انسانیت

معیار کو بلند کرنا

Urdu book, p. 166

By Maulana Wahiduddin Khan

معیار کو بلند کرنا قدیم عرب میں برابری کی اخلاقیات کا رواج تھا۔ ان کی زندگی کا اصول یہ تھا کہ جو شخص جیسا کرے، اس کے ساتھ ویسا ہی کیا جائے۔ یعنی اچھا سلوک کرنے والے کے ساتھ اچھا سلوک اور برا سلوک کرنے والے کے ساتھ برا سلوک۔ ایک جاہلی شاعر اپنے حریف قبیلہ کے بارے میں کہتا ہے کہ زیادتی کی کوئی قسم ہم نے باقی نہیں چھوڑی۔ انھوں نے ہمارے ساتھ جیسا کیا تھا، ویسا ہی ہم نے ان کو بدلہ دیا: وَلَمْ يَبْقَ سِوَى الْعُدْوَا نِ دَنَاهُمْ كَمَا دَانُوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ نے ان کے اس تصور اخلاق کو بدلا۔ مساویانہ اخلاق کے بجائے آپ نے ان کو بلند اخلاقی کی تعلیم دی۔ آپ نے فرمایا اَحْسِنُ الی من اساء الیک (المعجم ابن الاعرابی، حدیث نمبر 1507)۔ یعنی، جو شخص تمہارے ساتھ برا سلوک کرے، اس کے ساتھ تم اچھا سلوک کرو۔ ایک اور حدیث کے الفاظ یہ ہیں: لَا تَكُونُوا إِمَّعَةً، تَقُولُونَ: إِنْ أَحْسَنَ النَّاسُ أَحْسَنَّا، وَإِنْ ظَلَمُوا ظَلَمْنَا، وَلَكِنْ وَطِّنُوا أَنْفُسَكُمْ، إِنْ أَحْسَنَ النَّاسُ أَنْ تُحْسِنُوا، وَإِنْ أَسَاءُوا فَلَا تَظْلِمُوا (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2007)۔ یعنی، تم لوگ اِمّعہ نہ بنو کہ یہ کہنے لگو، اگر لوگ ہمارے ساتھ اچھا کریں تو ہم بھی ان کے ساتھ اچھا کریں گے۔ اور اگر وہ زیادتی کریں تو ہم بھی زیادتی کریں گے۔ بلکہ اپنے آپ کو اس کے لیے تیار کرو کہ لوگ تمہارے ساتھ اچھا کریں تو تم ان کے ساتھ اچھا کرو گے اور اگر لوگ تمہارے ساتھ برا کریں تب بھی تم ان کے ساتھ زیادتی نہیں کرو گے۔ آپ کی ایک سنت یہ بھی ہے کہ لوگوں کے شعور کو بلند کیا جائے۔ ان کے اخلاق کو اونچا کیا جائے۔ ان کی حالت کو ہر اعتبار سے اوپر اٹھانے کی کوشش کی جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page