دینِ انسانیت
Urdu book, p. 167
By Maulana Wahiduddin Khan
انسان کے انسانی معیار کو بلند کرنا، فکری، علمی، اخلاقی حیثیت سے اس کو اوپر اٹھانا، اہم ترین کام ہے۔ اسی میں فرد کی بھلائی ہے اور اسی میں پورے معاشرہ کی بھلائی بھی۔ یہ عین سنت رسول ہے اور اس کو زندہ کرنا سنت رسول کو زندہ کرنا ہے۔ ترک تعلق قطع تعلق اور ترک کلام کو اسلام میں حرام قرار دیا گیا ہے۔ حدیث کی مختلف کتابوں میں اس سلسلہ میں بہت سی روایتیں آئی ہیں۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم دونوں میں یہ روایت ہے کہ: لَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ، يَلْتَقِيَانِ فَيُعْرِضُ هَذَا وَيُعْرِضُ هَذَا، وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلَامِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر (6077)۔ کسی آدمی کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ ترک تعلق کرے ۔ دونوں ملیں تو ایک ادھر منہ پھیر لے اور دوسرا اُدھر منہ پھیرلے۔ اور دونوں میں بہتر وہ ہے جو سلام کرنے میں پہل کرے ۔ ایک روایت میں ہے کہ ہر دو شنبہ اور جمعرات کو جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں۔ پھر ہر اس بندہ کو بخش دیا جاتا ہے جس نے اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرایا ہو سوا اس آدمی کے جس کی اپنے بھائی کے ساتھ عداوت ہو۔ کہا جاتا ہے کہ ان دونوں کے بارے میں انتظار کرو، یہاں تک کہ وہ آپس میں اپنے تعلق کو درست کر لیں (صحیح مسلم، حدیث نمبر (2565)۔ ایک روایت کے مطابق ایک صحابی کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ جو شخص اپنے بھائی سے ایک سال تک تعلق توڑے رہے تو وہ اس کا خون بہانے کے برابر ہے (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 4915)۔ سنن ابو داؤد میں ایک اور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader