دینِ انسانیت
Urdu book, p. 168
By Maulana Wahiduddin Khan
روایت اس طرح ہے: لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ، فَمَنْ هَجَرَ فَوْقَ ثَلَاثٍ فَمَاتَ دَخَلَ النَّارَ (سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 4914)۔ کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ ترک تعلق کرے ۔ پس جو شخص تین دن سے ز یادہ ترک تعلق کرے اور اسی حال میں مر جائے تو وہ آگ میں داخل ہو گا۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک آدمی کسی سے غصہ ہو کر اس سے تعلق توڑ لیتا ہے اور اس سے بولنا بند کر دیتا ہے۔ یہ برائی مردوں میں بھی ہے اور عورتوں میں بھی۔ مگر یہ سخت گناہ ہے۔ وہ اتنا زیادہ سنگین ہے کہ آدمی اپنی اصلاح نہ کرے اور اسی حالت میں اس پر موت آجائے تو نماز روزہ کے باوجود سخت اندیشہ ہے کہ وہ خدا کی پکڑ میں آجائے گا۔ چپ رہنا عبداللہ بن عمرو کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَنْ صَمَتَ نَجَا (سنن الترمنذی، حدیث نمبر 2501)۔ یعنی، جو شخص چپ رہا اس نے نجات پائی۔ اسی طرح ایک اور روایت کے مطابق، آپ نے فرمایا: اَلصَّمْتُ حُكْمٌ وَقَلِيلٌ فَاعِلُهُ (مسند الشهاب للقضاعی، حدیث نمبر 240)۔ یعنی، خاموشی حکمت ہے۔ مگر بہت کم ہیں جو اس پر عمل کرتے ہوں۔ خاموشی بے عملی نہیں، خاموشی خود ایک اعلیٰ ترین عمل ہے۔ انسان کی سب سے بڑی خصوصیت اس کا صاحب دماغ ہونا ہے۔ اور خاموشی اس بات کی علامت ہے کہ آدمی واقعۃً دماغ والا انسان ہے۔ وہ اپنے اندر ذہنی عمل کی صلاحیت رکھتا ہے۔ چپ رہنا سوچنا ہے۔ جب آدمی چپ ہو تو وہ سادہ طور پر چپ نہیں ہوتا، وہ اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader