Urdu book · دینِ انسانیت

دینِ انسانیت

Urdu book, p. 169

By Maulana Wahiduddin Khan

وقت غور و فکر میں مشغول ہوتا ہے۔ اور غور و فکر بلا شبہ سب سے بڑا عمل ہے۔ بولنا اگر اعضاء و جوارح کی حرکت کا نام ہے تو چپ رہنا دماغ کی حرکت کا نام۔ بولنا اگر آدھا عمل ہے تو چپ رہنا پورا عمل۔ چپ رہنا سنجیدگی کی علامت ہے۔ جب آدمی چپ ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ باتوں کو گہرائی کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ وہ بولنے سے پہلے یہ سوچ رہا ہے کہ کیا بولے اور کیا نہ بولے۔ وہ دوسروں کو مخاطب بنانے سے پہلے خود اپنے آپ کو مخاطب بنا رہا ہے۔ وہ عاجلانہ اقدام کے بجائے سوچے سمجھے اقدام کا منصوبہ بنانے میں مشغول ہے۔ بولنا بے صبری ہے اور چپ رہنا صبر ہے۔ بولنا بے احتیاطی ہے اور چپ رہنا احتیاط ہے۔ بولنا غیر ذمہ دارانہ انداز ہے اور چپ رہنا ذمہ دارانہ انداز ۔ بولنا محدودیت ہے۔ آدمی بول دے اس کی گویا حد آگئی، مگر چپ رہنا لامحدودیت ہے۔ جو آدمی چپ ہو وہ اٹھاہ آدمی ہے۔ وہ ایسا آدمی ہے جس کی ابھی حد نہیں آئی۔ بولنے والا آدمی فوراً بول پڑتا ہے، اور چپ رہنے والا آدمی اس وقت بولتا ہے جب کہ تمام لوگ اپنے الفاظ ختم کر چکے ہوں۔ اسلام آدمی کے اندر خود احتسابی اور غور و فکر کا مزاج بناتا ہے۔ وہ ایسے افراد تیار کرتا ہے جو سوچنے والے ہوں، جو بولنے سے زیادہ چپ رہنے کو محبوب رکھتے ہوں۔ صبر ضروری قدیم مصر میں بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والا ایک شخص قارون (korah) نام کا تھا۔ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ہم عصر اور رشتہ دار تھا۔ اس نے دنیاداری اور مصلحت پرستی کے ذریعہ بہت زیادہ دولت اکٹھا کر لی تھی۔ قرآن میں اس کے قصہ کے ذیل میں بتایا گیا ہے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page