Urdu book · دینِ انسانیت

اختلاف میں رحمت

Urdu book, p. 17

By Maulana Wahiduddin Khan

انسانیت کی ترقی کے لیے لازمی شرط کی حیثیت رکھتا ہے ۔ یہاں تک کہ کہنا صحیح ہو گا کہ جو سماج اختلاف سے خالی ہو جائے وہ ترقی سے بھی خالی ہو جائے گا۔ انسان کا ذہن ایک بند خزانہ ہے۔ اس بند خزانہ کو جو چیز کھولتی ہے وہ یہی اختلاف ہے۔ اختلاف رائے سے ذہن ترقی کرتا ہے، یہاں تک کہ ایک انسان سپر انسان بن جاتا ہے۔ آج ہمارے سامنے یہ سوال نہیں ہے کہ اختلاف کیا جائے یا نہ کیا جائے، اختلاف تو ہر وقت ہی ہر سطح پر اور ہر دینی معاملہ میں موجود ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ دین میں روز اول سے آج تک جو بے شمار اختلافات پائے جا رہے ہیں ان کی توجیہہ کیا کی جائے۔ گویا مسئلہ موجودگی کی توجیہہ کا ہے نہ کہ اس کو باقی رکھنے کا یا باقی نہ رکھنے کا۔ مثلاً آپ قرآن کا مطالعہ شروع کریں اور اس کے لیے کوئی مستند تفسیر لیں، مثلاً القرطبی (وفات 1273 ء) کی الجامع لاحکام القرآن ۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم کی تفسیر شروع ہوتے ہی آپ کو یہ فقرہ لکھا ہوا ملے گا: فیھا سبع وعشرون مسئلۃ (اس میں 27 مسئلے ہیں)۔ گویا چار لفظ کے ایک جملہ میں دو درجن سے زیادہ اختلافی مسائل۔ اسی طرح سورہ فاتحہ میں اتنے زیادہ مسائل ہیں کہ چند سطر کی ایک سورہ کے مباحث پورے 43 صفحہ تک پھیلے ہوئے ہیں۔ اسی طرح 20 جلدوں کی یہ تفسیر آپ اس طرح پڑھیں گے کہ شاید اس کا کوئی بھی صفحہ اختلافی رایوں اور اختلافی اقوال سے خالی نہ ہوگا۔ یہاں تک کہ آپ معوذتین تک پہنچیں گے تو اس کی تفسیر میں دوسرے بہت سے اختلافات کے ساتھ یہ انتہائی نوعیت کا اختلاف آپ کو پڑھنے کے لیے ملے گا کہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے خیال کے مطابق ، یہ دونوں آخری سورتیں دراصل دعائیں وہ قرآن کا حصہ نہیں : وَزَعَمَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ أَنَّهُمَا دُعَاءُ تَعَوُّذٍ بِهِ،

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page