صبر ضروری
Urdu book, p. 170
By Maulana Wahiduddin Khan
کہ ایک بار وہ پوری زینت اور نمائش کے ساتھ اپنی قوم کے سامنے نکلا۔ قوم (بنی اسرائیل) کے کچھ لوگوں کو اس پر رشک آیا۔ انھوں نے کہا کہ کاش ہم کو بھی وہی ملتا جو قارون کو دیا گیا ہے۔ بے شک وہ بڑی قسمت والا ہے (القصص، 28:79)۔ اس کے بعد قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ بنی اسرائیل میں جو علم والے لوگ تھے انھوں نے کہا کہ تمہارا برا ہو، اللہ کا انعام زیادہ بہتر ہے اس شخص کے لیے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے۔ اور یہ انھیں کو ملتا ہے جو صبر کرنے والے ہیں: وَلَا يُلَقَّاهَا إِلَّا الصَّابِرُونَ (28:80)۔ یہاں اس قرآنی لفظ (وَلَا يُلَقَّاهَا إِلَّا الصَّابِرُونَ) سے کیا مراد ہے، اس سلسلہ میں تفسیروں میں حسب ذیل اقوال آئے ہیں— اس قول کی توفیق انھیں ملتی ہے جو صبر کرنے والے ہیں۔ اعمال صالحہ کو وہی پاتے ہیں جو صبر کرنے والے ہیں، جنت کو وہی پاتے ہیں جو صبر کرنے والے ہیں: اى لَا يُؤْتَى هَذِهِ الْكَلِمَةَ إِلَّا الصَّابِرُونَ (تفسیر البغوى، جلد 3، صفحه 454)۔ أَي لَا يُؤْتَى الْأَعْمَالَ الصَّالِحَةَ إِلَّا الصَّابِرُونَ (تفسیر الخازن، جلد 3، صفحه 371) لَا يُؤْتَى الْجَنَّةَ فِي الآخِرَةِ إِلَّا الصَّابِرُونَ (تفسیر القرطبی، جلد 13، صفحه 317) ایمان اور عمل اور جنت کے ساتھ صبر کیوں اتنا زیادہ جڑا ہوا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ دنیا آزمائش کی دنیا ہے۔ اس بنا پر آدمی کو یہاں طرح طرح کی رکاوٹوں سے سابقہ پیش آتا ہے۔ کبھی کوئی اشتعل کرنے والا اس کو مشتعل کر دیتا ہے۔ کبھی کسی کی طرف سے ایسا سلوک سامنے آتا ہے کہ اس کی انا بھڑک اٹھتی ہے۔ کبھی کوئی مسئلہ اتنا بڑھتا ہے کہ وہ اس کے لیے عزت کا سوال بن جاتا ہے، ایسے تمام مواقع پر اپنے آپ کو راہ راست پر قائم

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader