Urdu book · دینِ انسانیت

دینِ انسانیت

Urdu book, p. 171

By Maulana Wahiduddin Khan

رکھنے کے لیے صبر کی طاقت درکار ہوتی ہے۔ صبر نہیں تو ایمان نہیں۔ صبر نہیں تو اعمال صالحہ نہیں، صبر نہیں تو جنت بھی نہیں۔ صبر دنیا و آخرت کی تمام کامیابیوں کی کنجی ہے۔ اجتماعی آداب قرآن کی سورہ نمبر 58 میں مجلس کے آداب بتاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ : اے ایمان والو، جب تم سے کہا جائے کہ مجلسوں میں کھل کر بیٹھو تو تم کھل کر بیٹھو، اللہ تم کو کشادگی دے گا ۔ اور جب کہا جائے کہ اٹھ جاؤ تو تم اٹھ جاؤ۔ اللہ درجے بلند کرے گا ان لوگوں کے جو تم میں سے ایمان والے ہیں اور جن کو علم دیا گیا ہے۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے (58:11)_ مجلس میں آدمی اکیلا نہیں ہوتا بلکہ دوسرے بہت سے لوگ ہوتے ہیں۔ اگر ہر آدمی صرف اپنی فکر کرے تو دوسروں کو تکلیف ہوگی ۔ اس لیے حکم دیا گیا کہ مجلس میں دوسروں کی رعایت کرو۔ مثلاً جگہ کم ہو تو سمٹ کر بیٹھیں یا ایک کرسی پر دو آدمی بیٹھ جائیں۔ آنے والوں میں کوئی شخص زیادہ قابلِ لحاظ ہے تو اس کے لیے جگہ خالی کر دیں۔ اسی طرح جب اٹھنے کو کہا جائے تو فوراً اٹھ جائیں۔ کسی خود ساختہ عذر کی بنا پر مزید بیٹھے نہ رہیں۔ ابتدائی مفہوم کے اعتبار سے اس آیت میں مجلس کے آداب ہیں۔ مگر جامع مفہوم کے اعتبار سے اس میں پوری زندگی کے لیے اجتماعی آداب بتا دیے گئے ہیں۔ اجتماعی زندگی کو خوش اسلوبی کے ساتھ چلانے کے لیے دو چیزیں بہت ضروری ہیں ۔ ایک ، توسع ، اور دوسرے یہ کہ باتوں کو سادہ طور پر لیا جائے۔ کسی بات کو عزت کا سوال نہ بنایا جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page