Urdu book · دینِ انسانیت

دینِ انسانیت

Urdu book, p. 172

By Maulana Wahiduddin Khan

جس طرح ایک مجلس میں توسیع کا انداز اختیار کرنے سے مجلس کامیاب ہوتی ہے اور ہر ایک کو حسن وخوبی کے ساتھ استفادہ کا موقع ملتا ہے۔ اسی طرح عام زندگی میں توسیع کا طریقہ زندگی کے نظام کو خوش اسلوبی کے ساتھ چلانے کا ضامن ہے۔ مجلس میں کبھی اس کی ضرورت پیش آتی ہے کہ ایک آدمی کے بیٹھنے کے لیے دوسرا آدمی اپنی جگہ خالی کردے۔ اسی طرح زندگی کے وسیع تر معاملات میں بھی بار بار اس کی ضرورت پیش آتی ہے کہ ایک لائق آدمی کو کام کا موقع دینے کے لیے دوسرا آدمی اپنے کو پیچھے کرلے۔ ادارہ کا ایک آدمی ادارہ کے مفاد میں ایک فیصلہ دے دے تو دوسرے لوگ اس کو مان لیں۔ وہ ایسا نہ کریں کہ اس کو ذاتی عزت کا سوال بنا کر داخلی انتشار پیدا کرنے میں لگ جائیں۔ درسِ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف کے بارے میں صحابہ کے اقوال کثرت سے حدیث کی کتابوں میں موجود ہیں۔ ان میں سے ایک عائشہ رضی اللہ عنہا کی وہ روایت ہے جو صحیح البخاری میں آئی ہے۔ امام بخاری نے اس کو اپنی کتاب میں معمولی فرق کے ساتھ چار مقام پر نقل کیا ہے۔ کتاب المناقب میں، کتاب الادب میں اور کتاب الحدود میں دو باب کے تحت۔ کتاب الادب کے الفاظ یہ ہیں: عَنْ عَائِشَةَ رضي الله عنها أَنَّهَا قَالَتْ: مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ أَمْرَيْنِ قَطُّ إِلَّا أَخَذَ أَيْسَرَهُمَا مَا لَمْ يَكُنْ إِثْماً، فَإِنْ كَانَ إِثْماً كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6126)۔ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو معاملہ کے درمیان کسی ایک معاملہ کو اختیار کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ دونوں میں سے آسان معاملہ کو لے لیتے تھے جب تک وہ گناہ نہ ہو۔ پس اگر وہ گناہ ہوتا تو آپ سب سے زیادہ اس سے دور رہتے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page