دینِ انسانیت
Urdu book, p. 173
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ حدیث امام مسلم نے اپنی صحیح (حدیث نمبر 2327) میں اور امام طبرانی نے الاوسط (حدیث نمبر 2918) میں نقل کی ہے۔ وہاں الا اخذایسر ھما کی جگہ الا اختار ایسر ھما کے الفاظ ہیں۔ یعنی آپ دونوں میں سے آسان کا انتخاب فرماتے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ معاملات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ اسہل کو اختیار کرنے کا تھا نہ کہ اشد کو اختیار کرنے کا۔ طریق نبوت کے بارے میں حضرت عائشہ کا یہ بیان بے حد اہم ہے۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی کی نہایت جامع تشریح ہے ۔ وہ اسلام کی مستقل پالیسی کو بتاتا ہے۔ یہ پالیسی ایک لفظ میں ہے ۔ ممکن سے آغاز ۔ آسان اور مشکل کا مطلب سادہ طور پر محض آسان اور مشکل نہیں ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ دو راستوں سے وہ راستہ اختیار کرنا جو کھلا ہوا ہو، اس مقام پر سر نہ ٹکرانا جہاں راستہ بند ہو ۔ اور آگے بڑھنے کے لیے ٹکراؤ ضروری ہو گیا ہو۔ اس پالیسی کا فائدہ یہ ہے کہ آدمی کو فوراً اپنے عمل کے لیے مثبت آغاز مل جاتا ہے۔ اس کا ہر قدم منزل کی طرف بڑھنے کے ہم معنی ہوتا ہے۔ اس کی قوتیں تخریب کے بجائے تعمیر پر صرف ہونے لگتی ہیں۔ پیغمبر کا طریقہ حضرت ابوہریرہ کی ایک روایت ہے جس کو صحیح بخاری میں تین باب کے تحت نقل کیا گیا ہے۔ یہ روایت بتاتی ہے کہ طفیل بن عمر والدوسی کی دور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ۔ انھوں نے آپ کا پیغام سنا۔ ان پر اتنا گہرا اثر ہوا کہ اسی وقت وہ آپ کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader