Urdu book · دینِ انسانیت

پیغمبر کا طریقہ

Urdu book, p. 174

By Maulana Wahiduddin Khan

ہاتھ پر بیعت کر کے اسلام میں داخل ہو گئے۔ اس کے بعد آپ نے ان سے کہا کہ تم اپنے قبیلہ میں واپس جاؤ اور لوگوں کو دین توحید کی طرف بلاؤ۔ وہ اپنے قبیلہ کی طرف واپس گئے اور ان کو دعوت دینا شروع کیا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6126)۔ ان کی ساری کوشش کے باوجود صرف دو آدمی اسلام میں داخل ہوئے۔ ایک ان کے والد، اور دوسرے ابو ہریرہ، جو اسی قبیلہ دوس سے تعلق رکھتے تھے۔ قبیلہ کی اکثریت ان کے خلاف ہوگئی اور طرح طرح سے ان کو ستانا شروع کیا۔ مدنی دور میں طفیل بن عمر الدوسی دوبارہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا کہ دوس کا قبیلہ سرکش ہو گیا ہے۔ اس نے توحید کی دعوت کو ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ اس لیے آپ ان کے خلاف بد دعا کیجیے۔ فَادْعُ اللَّهَ عَلَيْهِمْ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2327)۔ روایت میں آتا ہے کہ اس کو سن کر لوگوں نے گمان کیا کہ اب آپ قبیلہ کے خلاف بد دعا کریں گے (المجم الاوسط للطبرانی، حدیث نمبر 2918)۔ دوسری روایت میں ہے کہ لوگ کہنے لگے کہ اب قبیلہ دوس ہلاک ہو گیا (فتح الباری 6/166) مگر آپ نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھایا تو آپ کی زبان سے یہ دعائیہ لفظ نکلا: اللَّهُمَّ اَهْدِ دَوْسًا وَأَتِ بِهِمْ (مسند احمد، حدیث نمبر 7315)۔ قبیلہ دوس کو ہدایت دے اور ان کو مجھ سے ملا دے (7/704) جلد ہی بعد قبیلہ دوس کا حاکم حبیب بن عمر اور دوسرے تمام لوگ دعوت توحید سے متاثر ہوئے اور اسلام میں داخل ہو گئے۔ اس واقعہ میں ایک سوچ پیغمبر کی ہے اور دوسری سوچ عام آدمی کی۔ عام آدمی نے صرف ظاہر کو جانا۔ وہ قبیلہ کے صرف وقتی رد عمل کو دیکھ سکا۔ چنانچہ اس نے قبیلہ کو گمراہ سمجھ کر اس کو ہلاکت کا مستحق قرار دے دیا۔ مگر پیغمبر کی بصیرت نے انسانی افکار سے اوپر اٹھ کر خدائی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page