دینِ انسانیت
Urdu book, p. 18
By Maulana Wahiduddin Khan
وَلَيْسَتَا مِنْ الْقُرْآنِ (تفسیر القرطبی، جلد 20، صفحه 251)۔ یہی معاملہ مزید اضافہ کے ساتھ حدیث کا ہے۔ آپ اس کی کوئی بھی شرح لیں، مثلاً صحیح بخاری کی شرح فتح الباری کو لیجیے۔ آپ اس کو کھولیں تو پہلی حدیث یہ ملے گی کہ: إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ۔ یعنی، عمل کا دار ومدار نیت پر ہے۔ یہ ایک متواتر حدیث ہے اور نہایت مستند ہے۔ مگر اس کی تقریباً نو صفحہ کی تشریح میں چھ بار اختلاف اور اختلفو جیسے الفاظ آئے ہیں۔ تیرہ جلدوں پر مشتمل پوری فتح الباری اسی طرح اختلافی تشریحات سے بھری ہوئی ہے۔ اس کے بعد اگر آپ فقہ اور عقائد کی کتابیں دیکھیں تو بظاہر ایسا معلوم ہوگا کہ وہ اختلافات کا ایک لامتناہی جنگل ہے۔ یہاں شاید کوئی ایک معاملہ بھی آپ کو ایسا نہیں ملے گا جو اختلافی رایوں سے خالی ہو۔ یہ اختلافات کوئی برائی نہیں، بلکہ وہ فکری مہمیز ہیں۔ وہ لوگوں کو سوچ پر ابھارتے ہیں۔ وہ ذہنوں کو متحرک کر کے انھیں ارتقا کی طرف لے جاتے ہیں۔ نصیحت، تعیب قرآن میں حق کے داعیوں کے لیے نُصح اور ناصح کے الفاظ آئے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ داعی کا کلام نصیحت کا کلام ہوتا ہے۔ یعنی، اس کے لکھنے یا بولنے کا محرک صرف اصلاح اور خیر خواہی ہوتا ہے۔ اس کے سوا کوئی بھی دوسرا محرک نہیں ہوتا جس کے تحت وہ دوسروں کے بارے میں بولے یا دوسروں کے اوپر قلم اٹھائے۔ ناصح کا کلام ذمہ داری کے احساس کے تحت نکلتا ہے۔ وہ بولنے سے پہلے سوچتا ہے اور لکھنے سے پہلے تحقیق کرتا ہے۔ اس کا جذبہ یہ ہوتا ہے کہ اگر میں خاموش رہا تو میں خدا کے یہاں پکڑا جاؤں گا۔ وہ شہرت یا اظہار خویش یا کسی دنیوی فائدے کے لیے نہیں بولتا۔ وہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader