Urdu book · دینِ انسانیت

دینِ انسانیت

Urdu book, p. 180

By Maulana Wahiduddin Khan

عملِ سوء کے مقابلہ میں عملِ حسن (حم السجدہ، 41:34) ایذارسانی کے مقابلہ میں صبر (ابراہیم، 14:12) حمیتِ جاہلیہ کے مقابلہ میں سکینہ (الفتح، 48:26) قرآن کی ان ہدایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب انسان اپنی آزادی کا غلط استعمال کر کے دوسرے شخص کو اذیت پہنچائے تو دوسرے شخص کو جوابی طریقہ نہیں اختیار کرنا ہے بلکہ برداشت کا طریقہ اختیار کرنا ہے۔ اس کو اشتعال انگیزی کے باوجود مشتعل نہیں ہونا ہے۔ اس کو نفرت کے جواب میں محبت کا تحفہ پیش کرنا ہے۔ اگر وہ ایسا کرے تو قدرت کا قانون حرکت میں آئے گا اور وہ زیادہ بہتر طور پر اس کے مسئلہ کو حل کر دے گا۔ صبر و اعراض انسان کا معاملہ نہیں، وہ حقیقۃً خدا کا معاملہ ہے۔ یہ خود خدا کی مرضی ہے کہ لوگ صبر کریں۔ کیونکہ اس کے بغیر خدا کا منصوبہ امتحان مکمل نہیں ہوسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کا ثواب بہت ہے۔ بلکہ اس کا ثواب تمام دوسرے اعمال سے زیادہ ہے۔ قرآن میں خصوصی طور پر وعدہ کیا گیا ہے کہ جو لوگ اللہ کے لیے صبر کریں ان کو ان کا اجر بے حساب مقدار میں دیا جائے۔ چپ رہیے قرآن میں ہے کہ کان اور آنکھ اور دل، ہر چیز کے بارے میں انسان سے پوچھ ہوگی (17:36)۔ حدیث میں آیا ہے کہ تم میں جو شخص فتویٰ دینے میں زیادہ جری ہے وہ جہنم کے اوپر زیادہ جری ہے۔ اَجْرَؤُكُمْ عَلَى الْفُتْيَا، أَجْرَؤُكُمْ عَلَى النَّارِ (مسند الدارمی، حدیث نمبر 159)۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page