چپ رہیے
Urdu book, p. 181
By Maulana Wahiduddin Khan
اس بنا پر صحابہ کرام فتویٰ دینے میں انتہائی احتیاط برتتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود کے متعلق حدیث میں آیا ہے کہ عبداللہ ترازُو میں اُحد پہاڑ سے بھی زیادہ وزنی ہیں۔ عَبْدُ اللہِ أَثْقَلُ فِي الْمِيزَانِ مِنْ أُحُدٍ (الادب المفرد، حدیث نمبر 237)۔ اس کے باوجود ان کا یہ حال تھا کہ وہ کوفہ میں تھے۔ ان سے ایک معاملہ میں پوچھا گیا تو انھوں نے جواب نہیں دیا۔ لوگ ان سے مہینہ بھر پوچھتے رہے۔ یہاں تک کہا کہ اگر آپ ہی فتویٰ نہ دیں تو ہم کس سے پوچھیں (مَنْ نَسْأَلُ إِنْ لَمْ نَسْأَلْكَ وَأَنْتَ مِنْ جِلَّةِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صلی اللہ علیہ وسلم بِهَذَا الْبَلَدِ، وَلَا نَجِدُ غَيْرَكَ؟)۔ اس کے بعد انھوں نے انتہائی احتیاط کے ساتھ اس کا جواب دیا ( سنن النسائی ، حدیث نمبر 3358) ۔ حضرت عبداللہ بن عمر ہمیشہ فتویٰ دینے سے پرہیز کرتے تھے۔ لوگ جب زیادہ اصرار کرتے تو کہتے کہ ہماری پیٹھ کو جہنم کے لیے سواری نہ بناؤ: لَا تَجْعَلُوا أَظْهُرََنَا مَطَايَا إِلَى جَهَنَّمَ (المعرفة والتاريخ للفسوی، جلد 1، صفحہ 493)۔ ان روایات میں فتویٰ سے مراد کوئی محدود فتویٰ نہیں ہے۔ اس کا تعلق ان تمام امور سے ہے جو مسلمانوں کو پیش آتے ہیں اور جن میں وہ اپنے علما اور اپنے رہنماؤں سے رائے پوچھتے ہیں۔ ایسے امور میں علما اور رہنماؤں کا فرض ہے کہ وہ بولنے سے زیادہ سوچیں۔ وہ اس وقت تک کوئی بیان نہ دیں جب تک اس معاملہ میں مشورہ اور مطالعہ اور غور وفکر کی تمام شرطوں کو آخری حد تک پورا نہ کر چکے ہوں۔ ایسے امور میں نہ بولنا اس سے بہتر ہے کہ آدمی غیر ذمہ دارانہ طور پر بولنے لگے۔ اجتماعی معاملات میں رائے دینا انتہائی نازک ذمہ داری ہے، کیوں کہ اگر رائے غلط ہو تو لوگوں کو نا معلوم مدت تک اس کا نقصان بھگتنا پڑتا ہے۔ اس لیے آدمی کو چاہیے کہ اگر وہ بولنا چاہتا ہے تو پہلے اس کی تمام شرطوں کو پورا کرے، اس کے بعد اپنی رائے کا اظہار کرے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader