Urdu book · دینِ انسانیت

قیامت میں ادائیگی

Urdu book, p. 182

By Maulana Wahiduddin Khan

قیامت میں ادائیگی عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ : أَتُدْرُونَ مَا الْمُفْلِسُ؟ قَالُوا: الْمُفْلِسُ فِينَا مَنْ لَا دِرْهَمَ لَهُ، وَلَا مَتَاعَ فَقَالَ: إِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصَلَاةٍ وَصِيَامٍ وَزَكَاةٍ، وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ هَذَا، وَقَذَفَ هَذَا، وَأَكَلَ مَالَ هَذَا، وَسَفَكَ دَمَ هَذَا، وَضَرَبَ هَذَا فَيُعْطَى هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْضَى مَا عَلَيْهِ أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ فَطُرِحَ عَلَيْهِ، ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ ( صحیح مسلم ، حدیث نمبر 2581)۔ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار پوچھا کہ کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے ۔ لوگوں نے کہا کہ ہم میں مفلس وہ شخص ہے جس کے پاس نہ درہم ہو اور نہ کوئی سامان۔ آپ نے فرمایا کہ میری امت میں مفلس وہ شخص ہے جو قیامت کے دن نماز اور روزہ اور زکوٰۃ لے کر آئے ۔ اسی کے ساتھ وہ اس حال میں آئے کہ اس نے کسی کو گالی دی ہو، کسی کو الزام لگایا ہو، کسی کا مال کھایا ہو، کسی کا خون بہایا ہو، کسی کو مارا ہو۔ پس اس کی نیکیاں اس کو اور اس کو دے دی جائیں۔ پھر اگر حساب برابر ہونے سے پہلے ان کی نیکیاں ختم ہو جائیں تو لوگوں کے گناہوں کو لے کر اس کے اوپر ڈال دیا جائے۔ اور پھر اس کو جہنم میں پھینک دیا جائے۔ یہ حدیث پڑھ کر ان لوگوں کے اوپر کپکپی طاری ہونی چاہیے ۔ جو دوسروں کا حق مارتے ہیں۔ کیوں کہ یہ حدیث بتاتی ہے کہ دوسروں کے مال پر مال دار بننے والے قیامت میں بالکل مفلس ہو جائیں گے جو لوگ دوسروں کے گھر پر قبضہ کر کے گھر والے بنے ہوئے ہوں،

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page