Urdu book · دینِ انسانیت

دینِ انسانیت

Urdu book, p. 183

By Maulana Wahiduddin Khan

وہ آخرت میں اس طرح بے گھر ہو جائیں گے کہ درخت کے پتوں کا سایہ بھی نہ ہوگا جس کے نیچے وہ پناہ لے سکیں۔ دوسری طرف اس حدیث میں ان لوگوں کے لیے خوش خبری ہے جن کا حق مارا گیا ہے۔ اس دنیا میں جو چیز انھیں گالی، الزام تراشی، غضب، تشدد اور جارحیت کے روپ میں مل رہی ہے۔ قیامت کے دن اس کی ادائیگی ایسے قیمتی سکوں کی صورت میں ہوگی جس سے آخرت کی دنیا کی ہر چیز حاصل کی جاسکتی ہے۔ دنیا کے مفلس، اس دن آخرت کے دولت مند کی صورت میں ظاہر ہوں گے۔ قناعت عبداللہ بن عمروبن العاص کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس شخص نے فلاح پائی جو اللہ کے آگے جھک گیا۔ جس کو بقدر ضرورت رزق ملا اور اللہ نے جتنا اس کو دیا اس پر اس نے قناعت اختیار کی: عن عبدِالله بنِ عمروبن العاص انّ رسولَ الله صلى الله عليه وسلم قال قَدْ أَفْلَحَ مَنْ أَسْلَمَ، وَرُزِقَ كَفَافًا، وَقَنَّعَهُ اللهُ بِمَا آتَاهُ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 1054) - قناعت (contentment) کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آدمی عمل کرنا چھوڑ دے۔ قناعت کا لفظ عمل کا الٹا نہیں ہے بلکہ وہ ہوس کا الٹا ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ پوری طرح ایک فعال زندگی گزارے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ زیادہ کی خواہش سے اپنے آپ کو بچائے۔ کیوں کہ زیادہ کی خواہش رکھنے والا آدمی کبھی اس دنیا میں مطمئن نہیں ہوسکتا۔ قناعت کا تعلق عمل سے نہیں ہے بلکہ نتیجہ عمل سے ہے۔ عمل تو زندگی کا تقاضا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page