قناعت
Urdu book, p. 184
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک زندہ آدمی کبھی عمل سے خالی نہیں ہوسکتا۔ مگر نتیجہ کا تعلق بہت سی خارجی چیزوں سے ہوتا ہے۔ اس لیے آدمی کو چاہیے کہ اپنی حد تک وہ عمل میں کوتاہی نہ کرے، اور نتیجہ کے معاملہ میں اس پر تیار رہے کہ جو بھی ملے گا وہ اس پر راضی ہو جائے گا۔ یہ دنیا کچھ اس طرح بنی ہے کہ یہاں عمل کرنا آدمی کے اپنے اختیار میں ہوتا ہے اور نتیجہ کا نکلنا دوسرے بہت سے عوامل کے اختیار میں۔ اس لیے اس دنیا میں حقیقت پسندانہ رویہ صرف وہی ہے جس کو قناعت کہا جاتا ہے۔ تاہم اس کا مطلب نتیجہ میں قناعت ہے نہ کہ کوشش میں قناعت۔ نتیجہ کے معاملہ میں قانع بن جانا حقیقت پسندی ہے۔ جب کہ عمل کے معاملہ میں قانع بنا خودکشی کے ہم معنی ہے۔ اس معاملہ میں صحیح رویہ کا ایک سادہ معیار ہے۔ وہ یہ کہ ذہنی سکون کو بھنگ کیے بغیر کوشش کو جاری رکھا جائے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنی صلاحیت اور اپنے مواقع کے اعتبار سے بھر پور عمل میں لگا رہے۔ جہاں تک نتیجہ کا تعلق ہے، وہ صرف اس حد تک اس کا طالب بنے جب تک اس کا ذہنی سکون بھنگ نہ ہو۔ جب نتیجہ کی خواہش میں اس کا ذہنی سکون چھننے لگے تو اس کو سمجھ لینا چاہیے کہ وہ قناعت کے دائرہ سے نکل کر ہوس کے دائرہ میں داخل ہو گیا ہے۔ اور ہوس بہر حال قابل ترک ہے۔ قانع آدمی کے لیے پیسہ برائے ضرورت ہوتا ہے اور غیر قانع آدمی کے لیے پیسہ برائے پیسہ۔ قانع آدمی اس وقت مطمئن ہو جاتا ہے جب کہ اس کو بقدر ضرورت پیسہ مل جائے ۔ مگر غیر قانع آدمی کبھی مطمئن نہیں ہوتا۔ کیوں کہ اس کی پیسہ کی طلب کسی حد پر ختم نہیں ہوتی۔ وہ ہمیشہ مزید اضافہ کے ساتھ جاری رہتی ہے۔ اس قناعت کا تعلق صرف پیسہ کے معاملہ سے نہیں ہے بلکہ زندگی کے ہر معاملہ سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader