دینِ انسانیت
Urdu book, p. 185
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے۔ ایک شخص سروس کر رہا ہے۔ ایک شخص لیڈری کے میدان میں ہے۔ ایک شخص حکومت کے عہدہ تک پہنچ گیا ہے۔ غرض آدمی جس شعبہ میں بھی ہو، ہر جگہ اس کے لیے ایک طریقہ ملے ہوئے پر قناعت کرنے کا ہے اور دوسرا طریقہ نہ ملے ہوئے کی طرف دوڑنے کا۔ قناعت کا طریقہ یہ ہے کہ حالات اس کو جس درجہ تک پہنچا دیں اس پر راضی ہو کر وہ اپنی ڈیوٹی انجام دینے میں لگ جائے۔ وہ ملی ہوئی حیثیت پر راضی رہے۔ اگر معمول کے مطابق اس کو مزید ترقی ملے تو اس کو وہ خوشی کے ساتھ قبول کر لے، اور اگر مزید ترقی کے مواقع نہ پیدا ہوں تو جہاں اس کو حالات نے پہنچایا ہے اس کو وہ دل کی رضامندی کے ساتھ قبول کرلے۔ پیاس آدمی کی ایک فطری ضرورت ہے۔ مگر ایک شخص وہ ہے جو صحت مند پیاسا ہو۔ دوسرا آدمی وہ ہے جو پیاس کی بیماری (عُطاش) میں مبتلا ہو جائے۔ صحت مند پیاسا صرف بقدر ضرورت پانی کا طالب ہوتا ہے۔ بقدر ضرورت پانی پینے کے بعد وہ بالکل مطمئن ہو جاتا ہے ۔ مگر جو شخص پیاس کی بیماری میں مبتلا ہو جائے، وہ ہر وقت پانی کا طالب بنا رہے گا۔ پانی کی کوئی بھی مقدار اس کو مطمئن کرنے والی نہیں۔ قانع آدمی اس دنیا میں صحت مند پیاسے کی مانند ہے، اور غیر قانع آدمی اس دنیا میں بیمار پیاسے کی مانند۔ اختلاف کے باوجود جس زمانہ میں حضرت علی اور حضرت معاویہ کے درمیان جنگ ہو رہی تھی، قیصر روم (قسطنطنیہ) نے ارادہ کیا کہ وہ مسلم دنیا پر حملہ کر دے۔ اس کے ذہن میں آیا کہ اس وقت مسلمان باہمی لڑائی میں مبتلا ہیں۔ اگر اس وقت میں نے حملہ کر دیا تو میں شام و مصر وغیرہ علاقہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader