Urdu book · دینِ انسانیت

اختلاف کے باوجود

Urdu book, p. 186

By Maulana Wahiduddin Khan

پر دوبارہ قبضہ کر سکتا ہوں ۔ حضرت معاویہ کو اس کی خبر ملی تو انھوں نے فوراً قیصر روم کے نام ایک خط روانہ کیا، اس میں لکھا ہوا تھا: إِذَا عَزَمْتَ الْعَزْمَ عَلَى أَنْ تُحَقِّقَ إِرَادَتَكَ فَإِنَّنِي أُقْسِمُ أَنْ أَتَصَالَحَ مَعَ صَاحِبِي ثُمَّ لَأُشَيِّرَنَّ ضِدَّكَ جَيْشاً سَأَكُونُ ضِمْنَ أَوَّلِ كَتِيبَةٍ فِيهِ وَسَأَجْعَلَنَّ مِنَ الْقُسْطَنْطِينِيَّةِ شُعْلَةَ نَارٍ (البدایة والنهایة لابن کثیر، جلد 11، صفحہ 400)۔ یعنی، اگر تم نے یہ عزم کیا کہ تم اپنے ارادہ کو پورا کرو تو میں قسم کھاتا ہوں کہ میں علی سے صلح کر لوں گا۔ پھر میں تمہارے خلاف ایک لشکر روانہ کروں گا جس کے پہلے دستہ میں خود شامل ہوں گا اور پھر میں قسطنطنیہ کو آگ بنا دوں گا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ حضرت معاویہ کے اس خط کے بعد قیصر روم نے اپنا حوصلہ کھودیا۔ اس نے فوجوں کی تیاری روک دی۔ اس نے سمجھ لیا کہ اب مسلمانوں سے جنگ چھیڑنا اپنی مزید بربادی کو دعوت دینا ہے۔ یہ زندہ لوگوں کا طریقہ ہے۔ ان کے اندر آپس میں اختلافات پیدا ہوتے ہیں۔ مگر جب معاملہ وسیع تر مفاد کا آ جائے تو وہ اپنے اختلاف کو ختم کر کے ایک ہو جاتے ہیں۔ ان کے اختلاف کی ایک حد ہوتی ہے۔ حد کے آجانے کے بعد ان کا اختلاف باقی نہیں رہتا۔ زندہ انسان دوستی کے باوجود کسی کی بے جا حمایت نہیں کرتا۔ وہ دشمنی کے باوجود کوئی چھوٹی حرکت نہیں کرتا۔ وہ انفرادی جھگڑے کے باوجود اجتماعی امور میں متحد ہو جاتا ہے۔ وہ شخصی کدورت کے باوجود اسلامی تعلق میں فرق نہیں آنے دیتا۔ زندہ انسان کسی سے نزاع پیش آنے کے باوجود اس کی خصوصیات کا اعتراف کرتا ہے۔ وہ رنجش پیدا ہونے کے باوجود امانتوں کو ادا کرتا ہے۔ زندہ انسان کسی حال میں پست حرکت نہیں کرتا، وہ کسی حال میں اپنی انسانیت کو نہیں کھوتا۔ زندہ انسان دشمن ہو سکتا ہے مگر وہ کمینہ نہیں ہو سکتا۔ زندہ انسان شاکی ہو سکتا ہے مگر یہ ممکن نہیں جس سے اس کو شکایت ہو اس کے خلاف وہ جھوٹا الزام لگانے لگے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page