Urdu book · دینِ انسانیت

دعا اور اعتراف

Urdu book, p. 187

By Maulana Wahiduddin Khan

دعا اور اعتراف تاریخِ اسلام کا ایک واقعہ وہ ہے جس کو مواخاۃ کہا جاتا ہے۔ مکہ کے مسلمان جب مہاجر کی حیثیت سے مدینہ آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ دو دو شخص اللہ کی راہ میں بھائی بھائی بن جاؤ ـــ تَآخَوْا فِي اللَّهِ أَخَوَيْنِ أَخَوَيْن (سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 109)۔ اس ہدایت کے مطابق ہر انصاری نے ایک مہاجر کو اپنا بھائی بنالیا۔ انصار نے اپنے تمام اثاثہ کو تقسیم کر کے آدھا خود لیا اور آدھا اپنے مہاجر بھائی کو دیدیا۔ اس مواخاۃ کی تفصیل سیرت کی کتابوں میں موجود ہے۔ اس معاملہ میں انصار نے یک طرفہ طور پر جس کمالِ ایثار کا ثبوت دیا اس کی کوئی دوسری مثال پوری معلوم تاریخ میں نہیں ملتی۔ انصار کے اعلی سلوک سے خود مہاجرین بے حد متاثر تھے : عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ الْمُهَاجِرُونَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا رَأَيْنَا مِثْلَ قَوْمٍ قَدِمْنَا عَلَيْهِمْ أَحْسَنَ مُوَاسَاةً فِي قَلِيلٍ، وَلَا أَحْسَنَ بَذْلًا فِي كَثِيرٍ، لَقَدْ كَفَوْنَا الْمُؤْنَةَ، وَأَشْرَكُونَا فِي الْمَهْنَا، حَتَّى لَقَدْ حَسِبْنَا أَنْ يَذْهَبُوا بِالْأَجْرِ كُلِّهِ. قَالَ: ”لَا، مَا أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِمْ، وَدَعَوْتُمُ اللَّهَ لَهُمْ“ (مسند احمد، حدیث نمبر 13075)۔ حضرت انس روایت کرتے ہیں کہ مہاجرین نے کہا کہ اے خدا کے رسول، جس قوم کے یہاں ہم آئے ہیں، ان سے بہتر قوم ہم نے نہیں دیکھی۔ وہ کم میں بہترین ہمدردی کرنے والے ہیں اور زیادہ میں بہترین خرچ کرنے والے ہیں۔ وہ محنت میں ہماری طرف سے کافی ہو گئے اور پیداوار میں ہم کو شریک کر لیا۔ حتی کہ ہم کو ڈر ہے کہ اجر انھیں کو نہ مل جائے۔ رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں، جب تک تم ان کی تعریف کرو اور اللہ سے ان کے لیے دعا کرتے رہو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page