دینِ انسانیت
Urdu book, p. 188
By Maulana Wahiduddin Khan
اس حدیث سے نہایت اہم اسلامی اصول معلوم ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ زید کو بکر سے کچھ ملے مگر زید کے پاس کوئی مادی چیز لوٹانے کے لیے نہ ہو تو وہ کیا کرے ۔ ایسی حالت میں زید کو چاہیے کہ وہ بکر کے عطیہ کا کھلے دل سے اعتراف کرے۔ اعتراف کا یہ احساس اتنا زیادہ گہرا ہو کہ زید کے دل سے بکر کے لیے دعائیں نکلنے لگیں ۔ مال والے کے پاس دینے کے لیے اگر مال ہے، تو بے مال والے کے پاس بھی دینے کے لیے ایک چیز موجود ہے، اور وہ دعا اور اعتراف ہے۔ اور بلاشبہ دعا اور اعتراف کی اہمیت کسی مادی عطیہ سے کم نہیں۔ خير كثير عبداللہ بن عباس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کے لڑکے تھے۔ نوجوانی کی عمر میں ایک بار وہ اونٹ پر رسول اللہ کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ نے ان کو ایک لمبی نصیحت فرمائی۔ اس حدیث کا ایک حصہ یہ ہے: اِعْلَمْ أَنَّ فِي الصَّبْرِ عَلَى مَا تَكْرَهُ خَيْرًا كَثِيرًا، وَأَنَّ النَّصْرَ مَعَ الصَّبْرِ، وَأَنَّ الْفَرَجَ مَعَ الْكَرْبِ، وَأَنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا (مسند احمد، حدیث نمبر 2803)۔ یعنی، جان لو کہ ناپسندیدہ بات پر صبر کرنے میں بہت زیادہ بھلائی ہے۔ اور صبر کے ساتھ اللہ کی مدد آتی ہے۔ اور تکلیف کے ساتھ کشادگی ہے اور مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ یہ پیغمبرانہ الفاظ زندگی میں کامیابی کی حقیقت کو بتا رہے ہیں۔ ایسی حقیقت جس کا تعلق ذاتی زندگی سے بھی ہے اور قومی اور اجتماعی زندگی سے بھی۔ آپ کو ایک گھر یا ایک دکان یا ایک آفس چلانا ہے تو لازماً اس میں ایسی چیزیں سامنے آئیں گی جو آپ کو پسند نہ ہوں گی۔ ان ناپسندیدہ چیزوں پر اگر آپ بھڑک اٹھیں یا بے برداشت ہو جائیں تو آپ کبھی گھر یا دکان یا آفس کو چلانے میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ لیکن اگر آپ وقتی ناپسندیدگی کو برداشت کر لیں اور جذباتی ہیجان سے ہٹ کر عقلی فیصلہ کے تحت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader