Urdu book · دینِ انسانیت

دینِ انسانیت

Urdu book, p. 189

By Maulana Wahiduddin Khan

کام کریں تو یقیناً آپ اپنے مستقبل کو کامیابی کی طرف لے جائیں گے۔ یہی معاملہ قومی اور اجتماعی زندگی کا بھی ہے۔ قومی زندگی میں بھی دوسروں کی طرف سے ناخوشگوار باتیں پیش آتی ہیں۔ اشتعال انگیز الفاظ کان میں پڑتے ہیں۔ ان مواقع پر دوبارہ صبر ہی کامیابی کا واحد راستہ ہے۔ اگر ایک گروہ کے لوگ دوسرے گروہ کی ناخوش گوار باتوں کو نظر انداز نہ کریں، اور ہر ناپسندیدہ بات پیش آنے پر دوسرے گروہ سے لڑنے کے لیے کھڑے ہو جائیں تو ایسے بے برداشت لوگ ہمیشہ ناکام اور برباد رہیں گے۔ پیغمبر کی نصیحت کے مطابق، کامیابی کا طریقہ یہ ہے کہ ایسے مواقع پر اپنے منفی جذبات کو قابو میں رکھا جائے۔ دوسروں کے خلاف اٹھنے کے بجائے اپنے آپ کو دبایا جائے۔ یہ صابرانہ طریقہ تنگی کے بعد کشادگی لائے گا، وہ مشکل کو بالآخر آسانی میں تبدیل کرنے کا سبب بن جائے گا۔ صبر کی عبادت نماز کا وقت ہو اور مسجد سے اذان کی آواز آئے تو ایک مسلمان خوش ہوتا ہے کہ اس کے لیے وقت آ گیا کہ وہ نماز ادا کرے اور عبادت کا ثواب حاصل کرے۔ اسی طرح جب رمضان کا نیا چاند آسمان پر نظر آتا ہے تو مسلمان خوش ہوتے ہیں کہ رمضان کے مہینہ کی آمد نے ان کو موقع دیا کہ وہ روزہ رکھ کر اپنے آپ کو اس کے ثواب کا مستحق بنائیں۔ اسی طرح ایک اور عظیم عبادت ہے جس کو شریعت میں صبر کہا گیا ہے۔ قرآن میں ہے کہ صبر کرنے والوں کو بے حساب اجر دیا جائے گا۔ (39:10)۔ حدیث میں ہے کہ صبر سے زیادہ بہتر عطیہ کبھی کسی کو نہیں دیا گیا ؂ لَنْ تُعْطَوْا عَطَاءً خَيْرًا وَأَوْسَعَ مِنَ الصَّبْرِ ( صحیح البخاری، حدیث نمبر 6470)۔ صبر ایک عبادت ہے، بلکہ تمام عبادتوں میں سب سے بڑی عبادت۔ عصر کی نماز کا ثواب بہت زیادہ ہے، مگر آپ عصر کی نماز دوپہر کے وقت نہیں پڑھ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page