Urdu book · دینِ انسانیت

نصیحت، تعییب

Urdu book, p. 19

By Maulana Wahiduddin Khan

صرف اس لیے بولتا ہے کہ وہ محسوس کرتا ہے کہ بولنا اس کے لیے ایک فریضہ کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ وہ جس کے بارے میں بولتا ہے، اس کے حق میں عین اسی وقت وہ دل سے دعا بھی کر رہا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، لکھنے اور بولنے کی دوسری صورت وہ ہے جس کو عیب جوئی یا تنقیص کہا جا سکتا ہے۔ قرآن میں ہے کہ : وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَاتَسْمَعُوا لِهَذَا الْقُرْآنِ وَالْغَوْا فِيهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُونَ (41:26) اس آیت میں والغوافیہ کی تشریح حضرت عبداللہ بن عباس نے یہ کی ہے کہ عَیَّبُوهُ (تفسیر ابن کثیر جلد 4، صفحہ 98) یعنی، اس پر عیب لگاؤ، اس کو دوسروں کی نظر میں برا بتاؤ تا کہ لوگ بھڑک کر اس سے دور ہو جائیں۔ نصیحت اگر خیر خواہی کے جذبہ کے تحت نکلتی ہے تو تعیب اس کے برعکس بد خواہی کے جذبہ کے تحت ۔ عیب جوئی اور الزام تراشی کرنے والے کے پیچھے نفرت، حسد، انانیت جیسے منفی محرکات ہوتے ہیں۔ اس کا مقصد دوسرے کی اصلاح کرنا نہیں ہوتا، بلکہ دوسرے کو گرانا اور بے وقعت کرنا ہوتا ہے۔ نصیحت نہ صرف جائز ہے بلکہ وہ کار ثواب ہے۔ اس کے مقابلہ میں تعیب و تنقیص یقینی طور پر حرام ہے، وہ صرف آدمی کے جرم میں اضافہ کرنے والی ہے۔ نصیحت صحت مند معاشرہ کی علامت ہے اور تعیب صرف بیمار معاشرہ کی علامت۔ جس معاشرہ میں نصیحت کی فضا ہو وہاں لوگ ایک دوسرے کو اپنا سمجھیں گے۔ لوگوں کے درمیان اعتماد کی فضا ہوگی۔ لوگوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے عزت و محبت کے جذبات ہوں گے۔ کوئی کسی کو غیر نہیں سمجھے گا۔ کوئی کسی کو شک کی نگاہ سے نہیں دیکھے گا۔ کوئی کسی کا استحصال کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page