دینِ انسانیت
Urdu book, p. 190
By Maulana Wahiduddin Khan
سکتے۔ اسی طرح رمضان کے روزہ کے لیے غیر معمولی ثواب کی خوش خبری دی گئی ہے۔ مگر یہ ثواب محرم کے مہینہ میں روزہ رکھ کر حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ یہی معاملہ صبر کی عبادت کا بھی ہے۔ صبر کی عبادت صبر کے حالات میں انجام دی جاسکتی ہے، غیر صابرانہ حالات میں صبر کی عبادت کی انجام دہی ممکن نہیں۔ صبر کا موقع کب پیش آتا ہے۔ صبر کا موقع اس وقت پیش آتا ہے جبکہ آپ کے ساتھ اشتعال انگیزی کی جائے۔ آپ کے ساتھ برابر تاؤ کیا جائے۔ جب کوئی شخص ایسی بات کہے جس سے آپ کی انا پر چوٹ لگتی ہو۔ صبر پر عمل کرنے کا موقع ہمیشہ مخالفانہ حالات میں ہوتا ہے نہ کہ موافقانہ حالات میں۔ صبر کے حالات پیش آنے پر اکثر لوگ بھڑک اٹھتے ہیں۔ وہ منفی نفسیات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ اگر وہ شعوری طور پر جانیں کہ یہ تو ان کے لیے صبر کی عبادت کا موقع ہے تو وہ صبر کے وقت کا اسی طرح استقبال کریں جس طرح وہ نماز اور روزہ کے وقت کا استقبال کرتے ہیں۔ صبر کا موقع عبادت کا موقع ہے۔ ایسا موقع پیش آنے پر آدمی کو یقین کرنا چاہئے کہ وہ وقت آ گیا جب کہ عبادتِ عظیم کا ثبوت دے کر وہ ثوابِ عظیم کا مستحق بن جائے۔ برا گمان يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ (49:12)۔ اے ایمان والو، بہت سے گمان سے بچو بیشک بعض گمان گناہ ہیں۔ گمان (ظن) بڑی تقسیم میں دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک حسن ظن جو جائز ہے اور دوسرا سوء ظن جو حرام: إِنَّ الظَّنَّ عَلَى أَقْسَامٍ، مِنْهَا مَا يَجِبُ اتِّبَاعُهُ، وَهُوَ حُسْنُ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader