Urdu book · دینِ انسانیت

برا گمان

Urdu book, p. 191

By Maulana Wahiduddin Khan

اَلظَّنِّ، وَمِنْهَا مَا يَحْرُمُ اِتِّبَاعُهُ، كَسُوْءِ الظَّنّ (التفسير المظهری، جلد 9، صفحہ 54)۔ مفسر طبری نے اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْم کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مومن کو اس سے منع فرمایا کہ وہ دوسرے مومن کے حق میں برا گمان کرے: نَهَى اللَّهُ الْمُؤْمِنَ أَنْ يَظُنَّ بِالْمُؤْمِنِ شَرًّا (تفسير الطبرى جامع البيان، جلد 22، صفحہ 304)۔ ایک ہے عین واقعہ یا عین مشاہدہ کی بنیاد پر رائے قائم کرنا۔ اور ایک ہے قیاس اور استنباط کی بنیاد پر رائے قائم کرنا۔ اس معاملہ میں شریعت کا اصول یہ ہے کہ اگر کسی کے بارے میں بری رائے قائم کرنے کا معاملہ ہو تو ایسی رائے صرف عین واقعہ یا عین مشاہدہ کی بنیاد پر قائم کی جاسکتی ہے۔ البتہ اگر اچھی رائے قائم کرنے کا معاملہ ہو تو دونوں طریقوں کی بنیاد پر رائے قائم کرنا جائز ہوگا۔ حدیث میں یہاں تک ارشاد ہوا ہے: إِذَا ظَنَنْتَ فَلَا تُحَقِّقْ (آمالی المحاملی، حدیث نمبر 343)۔ یعنی، اگر کسی شخص کے بارے میں تمہیں کوئی برا گمان ہو جائے تو اس کی تحقیق میں نہ پڑو، بلکہ اس کو اپنے ذہن سے نکال دو۔ روایات میں آتا ہے کہ ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن مسعود سے ولید بن عقبہ کا ذکر کیا اور کہا کہ اس شخص کی داڑھی سے شراب ٹپکتی ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا: ہم کو تجسس سے روک دیا گیا ہے۔ البتہ اگر کوئی چیز بالکل ظاہر ہو جائے گی تو ہم اس پر مواخذہ کریں گے۔ قِيْلَ هَذَا فُلَانٌ تَقْطُرُ لِحْيَتُهُ خَمْرًا، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: إِنَّا قَدْ نُهَيْنَا عَنِ التَّجَسُّسِ وَلَكِنْ إِنْ يَظْهَرْ لَنَا شَيْءٌ نَأْخُذْ بِهِ (سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 4890)۔ حضرت عمر فاروق نے فرمایا: تمہارے مومن بھائی کی زبان سے کوئی بات نکلے تو تم ہرگز اس کو برے معنی میں نہ لوجب کہ تم اس کو اچھے معنی میں بھی لے سکتے ہو: لا تَظُنَّنَّ بِكَلِمَةٍ خَرَجَتْ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page