Urdu book · دینِ انسانیت

دینِ انسانیت

Urdu book, p. 192

By Maulana Wahiduddin Khan

مِنْ مُسْلِمٍ شَرًّا وَاَنْتَ تَجِدُ لَهَا فِي الْخَيْرِ مَحْمَلًا (روضة العقلاء لابن حبان، صفحہ 90)۔ دفعِ احسن وَلاَ تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلاَ السَّيِّئَةُ اِدْفَعْ بِالَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِيْ بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيْمٌ (41:34)۔ یعنی، اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں۔ تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو۔ پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی وہ ایسا ہو گیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔ ایک شخص آپ کے ساتھ دشمنی کا معاملہ کرے اور آپ اس پر بھڑک کر اس کی مذمت کرنے لگیں تو اس کے اندر ضد پیدا ہوگی۔ اس کی دشمنی اور بڑھ جائے گی۔ آپ کا ایسا رد عمل آگ پر تیل ڈالنے کے ہم معنی ہوگا۔ جس دشمنی کی ابتدائی صورت آپ کے لیے ناخوشگوار ثابت ہوئی تھی، اب آپ کو اس دشمنی کی انتہائی صورت کا تلخ تجربہ برداشت کرنا پڑے گا۔ اس کے برعکس اگر آپ ایسا کریں کہ جس آدمی نے آپ کے ساتھ دشمنی والا سلوک کیا ہے، اس کے ساتھ آپ اعراض برتیں۔ یا اس کے ساتھ نرمی اور حسن سلوک کا معاملہ کریں تو یہ آگ پر پانی ڈالنے کے ہم معنی ہوگا۔ آپ کا یہ رویہ دشمن کو نفسیاتی شکست میں مبتلا کردے گا۔ اس کے بعد اس کا ضمیر جاگ اٹھے گا۔ وہ اندرونی طور پر شرمندگی کے احساس میں مبتلا ہو جائے گا۔ وہ مزید دشمنی کرنے کے بجائے دشمنی کی تلافی کی بات سوچنے لگے گا۔ اشتعال کے جواب میں مشتعل ہونا یا منفی رد عمل کا طریقہ اختیار کرنا دل کی بھڑاس نکالنے کا ذریعہ ہوسکتا ہے۔ مگر وہ کوئی مفید نتیجہ برآمد کرنے والا نہیں۔ یہ نادان آدمی کا کام

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page