Urdu book · دینِ انسانیت

دینِ انسانیت

Urdu book, p. 193

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے کہ وہ کوئی خلاف مزاج بات دیکھے تو فورا بھڑک اٹھے۔ عقل مند وہ ہے جو اقدام سے پہلے نتیجہ کی بات سوچے ۔ جو آخری نتیجہ کو سامنے رکھ کر اپنے عمل کا نقشہ بنائے نہ کہ محض وقتی جذبہ کے تحت کارروائی کرنے لگے۔ ہر آدمی اصلاً فطرت کا ایک ظاہر ہ ہے۔ ہر ایک آپ ہی کی طرح کا ایک انسان ہے۔ بظاہر کوئی شخص آپ کا دشمن ہو تب بھی اس کو ایک انسان سمجھے۔ اس کی برائی کو نظر انداز کر کے اس کے ساتھ اچھا سلوک کیجئے ۔ اس کے بعد آپ دیکھیں گے کہ وہ آپ کا قریبی دوست بن گیا۔ صبر کی اہمیت قرآن میں صبر کی غیر معمولی عظمت بیان ہوئی ہے۔ صبر کو اولوالعزم پیغمبروں کا طریقہ بتایا گیا ہے (الاحقاف، 46:35) صبر پر اعلیٰ ترین کامیابیوں کی بشارت ہے (7:137) صبر قیادت عالم کا زینہ ہے (السجدہ، 32:24) صبر حفاظت کا یقینی ذریعہ ہے (یوسف، 12:90) حتیٰ کہ صبر وہ چیز ہے جو آدمی کو بے حساب اجر کا مستحق بناتا ہے (39:10)۔ حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی شخص کو صبر سے بہتر اور صبر سے بڑا عطیہ نہیں دیا گیا: وَمَا أُعْطِيَ اللَّهُ أَحَدًا مِنْ عَطَاءٍ أَوْسَعَ مِنَ الصَّبْرِ (سنن ابو دائود، حدیث نمبر (1644)۔ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ ہم نے اپنی زندگی کا سب سے بہتر صبر کے ذریعہ پایا: وَوَجَدْنَا خَيْرَ عَيْشِنَا بِالصَّبْرِ (الزهد والرقائق لابن المبارک : 997)۔ ابن حجر العسقلانی نے صبر کی حدیث کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ صبر تمام اچھے اخلاق کا جامع ہے (فالصبر جامع المكارم الاخلاق) فتح الباری 311-309/11)۔ صبر نہ بزدلی ہے اور نہ وہ بے عملی ہے۔ صبر ایک مثبت قدر ہے۔ صبر بلند ترین ذہنی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page