Urdu book · دینِ انسانیت

دینِ انسانیت

Urdu book, p. 194

By Maulana Wahiduddin Khan

حالت ہے۔ صبر سب سے بڑا عمل ہے۔ صبر انسانیت کی تکمیلی درجہ ہے۔ آپ سڑک کے کنارے کھڑے ہوئے ہیں، کچھ لوگ آتے ہیں اور آپ کے خلاف اشتعال انگیز نعرہ لگا دیتے ہیں۔ اب آپ کے لیے ردعمل کے دو مختلف طریقے ہیں۔ ایک یہ کہ آپ نعرہ کو سن کر بھڑک اٹھیں۔ آنے والوں کے ساتھ جھگڑنے لگیں۔ یہ بے صبر کا طریقہ ہے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اشتعال انگیز نعرہ کو سنیں مگر آپ اس پر اشتعال نہ ہوں، آپ کا ذہن بدستور اعتدال کی حالت پر باقی رہے۔ آپ اپنے جذبات کو تھام کر یہ سوچیں کہ ایسے موقع پر آپ کو کیا کرنا چاہیے ۔ یہ دوسرا طریقہ صبر کا طریقہ ہے۔ بے صبری بھی عمل ہے، اور صبر بھی عمل ہے۔ دونوں میں سے کوئی بھی بے عملی نہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ بے صبر آدمی فوری جذبات کے تحت اقدام کر بیٹھتا ہے، خواہ اس کا نتیجہ کچھ بھی نکلے۔ اس کے برعکس، صبر والا آدمی سوچ سمجھ کر اور مشورہ کر کے اپنے اقدام کا فیصلہ کرتا ہے۔ بے صبری کی روش تباہی کی طرف لے جاتی ہے اور صبر کی روش کامیابی کی طرف۔ تکبیر، تواضع اللہ کے مقابلہ میں کبر کا حکم ہے اور انسان کے مقابلہ میں تواضع کا۔ یعنی اللہ کے مقابلہ میں یہ مطلوب ہے کہ اس کو اپنا کبیر بنایا جائے ۔ اور انسان کے مقابلہ میں یہ مطلوب ہے کہ لوگ ایک دوسرے کے مقابلہ میں تواضع کا رویہ اختیار کریں۔ یہی تکبیر اور تواضع دو لفظ میں پورے دین کا خلاصہ ہے۔ قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ تم اللہ ہی کی خوب بڑائی بیان کرو: وَکَبِّرْہُ تَکْبِیرًا (17:111) ۔ دوسری جگہ فرمایا کہ تم صرف اپنے رب کی بڑائی کرو: وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ (74:3) ۔ اللہ کی معرفت کے بعد آدمی کے دل میں اپنے خالق و مالک کے لیے جو سب سے بڑا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page