تکبیر، تواضع
Urdu book, p. 195
By Maulana Wahiduddin Khan
جذ بہ پیدا ہوتا ہے وہ یہی ہے۔ اس کو ساری عظمت صرف اللہ کی طرف دکھائی دینے لگتی ہے۔ وہ اس کے آگے جھک جاتا ہے۔ اللہ کو کبیر کی حیثیت سے دریافت کرنا اس کے اندر یہ شعور پیدا کرتا ہے کہ وہ اور دوسرے تمام انسان اللہ کے مقابلہ میں صرف صغیر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہی وہ احساس ہے جو ایک مومن کی زندگی میں عبادت، تقویٰ، خشوع، تضزع اور انابت کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ امام مسلم نے اپنی صحیح میں حضرت عیاض بن حمار کی یہ روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا کہ اللہ نے میری طرف یہ وحی کی ہے کہ تم لوگ تواضع اختیار کرو، یہاں تک کہ کوئی کسی کے اوپر فخر نہ کرے، کوئی کسی کے اوپر زیادتی نہ کرے: إِنَّ اللَّهَ أَوْحَى إِلَيَّ أَنْ تَوَاضَعُوا، حَتَّى لَا يَفْخَرَ أَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ، وَلَا يَبْغِيَ أَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2865)۔ یہ حدیث بتاتی ہے کہ ایک انسان کو دوسرے انسان کے مقابلہ میں کیسا ہونا چاہیے۔ اس کو چاہیے کہ وہ دوسرے انسانوں کے مقابلہ میں متواضع بن جائے۔ زیادہ والاکم والے پر فخر نہ کرے۔ طاقتور آدمی کمزور آدمیوں کے اوپر زیادتی نہ کرے۔ ایمان آدمی کے اندر جو شعور اور جو کیفیت پیدا کرتا ہے، اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ کو اپنا کبیر بنا کر اس کے مقابلہ میں اپنے کو صغیر بنالیتا ہے۔ پھر یہی شعور اس کے اندر یہ مزاج پیدا کرتا ہے کہ وہ تمام انسانوں کو قابلِ احترام سمجھے، وہ اُن کے ساتھ تواضع کا رویہ اختیار کرے نہ کہ سرکشی اور تحقیر کا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader