جنت میں مکان
Urdu book, p. 196
By Maulana Wahiduddin Khan
جنت میں مکان أَنَا زَعِيمٌ بِبَيْتٍ فِي رَبَضِ الْجَنَّةِ لِمَنْ تَرَكَ الْمِرَاءَ وَإِنْ كَانَ مُحِقًّا، وَبِبَيْتٍ فِي وَسَطِ الْجَنَّةِ لِمَنْ تَرَكَ الْكَذِبَ وَإِنْ كَانَ مَازِحًا وَبِبَيْتٍ فِي أَعْلَى الْجَنَّةِ لِمَنْ حَسَّنَ خُلُقَهُ (سنن ابوداود، حدیث نمبر 4800)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنت کے کنارے کے ایک گھر کی ذمہ داری لیتا ہوں اس شخص کے لیے جو جھگڑے کو چھوڑ دے خواہ وہ حق پر ہو۔ اور جنت کے بیچ میں ایک گھر کی اس شخص کے لیے جو جھوٹ کو ترک کردے خواہ وہ مذاق کر رہا ہو۔ اور جنت کے اعلیٰ درجہ میں ایک گھر اس شخص کے لیے جس کا اخلاق اچھا ہو۔ دو آدمی میں جھگڑا ہو تو دیکھنے کا ایک پہلو یہ ہے کہ کون حق پر ہے اور کون ناحق پر۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ اگر دونوں اپنے موقف پر اڑے رہیں تو جھگڑا بڑھتا ہے۔ جان و مال کی تباہی پیدا ہوتی ہے۔ اس لیے اللہ سے ڈرنے والے کو یک طرفہ طور پر جھگڑے سے الگ ہو جانا چاہئے۔ ایسا کرنے کے لیے اپنے نفس کو کچلنا ہوتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کے یہاں اس کا بہت بڑا اجر ہے۔ ہنسی مذاق کے وقت اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی سنجیدگی کو بھول جاتا ہے اور جھوٹ بولنے میں کوئی ہرج نہیں سمجھتا۔ مگر جنتی انسان وہ ہے جو سچ اور جھوٹ کے معاملہ میں اتنا حساس ہو کہ غفلت کے اوقات میں بھی اس کی زبان جھوٹ بولنے سے بچی رہے۔ حسن اخلاق دراصل حسن ایمان کا نتیجہ ہے۔ جس شخص کا ایمان اس کو خدا سے ڈرنے والا بنا دے وہ بندوں کے معاملہ میں اس کو بے حد محتاط بنا دیتا ہے۔ اس کی زبان کسی کی بے آبروئی کے لیے نہیں کھلتی۔ اس کا ہاتھ کسی کو تکلیف دینے کے لیے نہیں اٹھتا۔ اس کے پاؤں کسی کی بدخواہی کے لیے نہیں چلتے۔ یہی حسن اخلاق ہے اور یہ حسن اخلاق جس کے اندر پیدا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader