دینِ انسانیت
Urdu book, p. 197
By Maulana Wahiduddin Khan
ہو جائے وہ یقینا جنت میں اعلی مقام پاتا ہے۔ اعلی اخلاق سے آدمی کو اعلی جنت اسی طرح ملتی ہے جس طرح اعلی بیج سے اعلی پھل والا درخت۔ سکون کا راز عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: انظُرُوا إِلَى مَنْ أَسْفَلَ مِنْكُمْ، وَلَا تَنْظُرُوا إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقَكُمْ، فَهُوَ أَجْدَرُ أَنْ لَا تَزْدَرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2963)۔ حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ تم اس کو دیکھو جو تمہارے نیچے ہے اور اس کو نہ دیکھو جو تمہارے اوپر ہے۔ کیوں کہ اس رویہ سے اس بات کی زیادہ توقع ہے کہ تم اپنے اوپر خدا کی نعمتوں کو حقیر نہ سمجھو۔ یہ زندگی کا ایک نہایت قیمتی اصول ہے۔ موجودہ دنیا میں خود فطرت کے نظام کے تحت ایسا ہے کہ کسی کے پاس کم سامان ہوتا ہے اور کسی کے پاس زیادہ سامان۔ فرق کی یہ صورت حال کبھی ختم ہونے والی نہیں۔ ایسی حالت میں پرسکون زندگی حاصل کرنے کا راز صرف ایک ہے۔ وہ یہ کہ آدمی اپنے اور دوسروں کے درمیان غلط تقابل نہ کرے۔ اگر وہ اپنے سے اوپر والوں کو دیکھے گا تو اس کے اندر حسد اور بے چینی پیدا ہوگی۔ وہ سکونِ قلب سے محروم ہو جائے گا۔ اس کے برعکس اگر وہ اپنے سے نیچے والوں کو دیکھے تو اس کے اندر شکر کا جذبہ پیدا ہوگا اور اسی کے ساتھ اس کو روحانی سکون بھی حاصل ہوگا۔ اس کا دن چین کے ساتھ گزرے گا اور رات کے وقت اس کو اچھی نیند کی نعمت حاصل ہوگی۔ اس بات کو مشہور انگریز افسانہ نگار شیکسپییر (1616-1565) نے اپنے لفظوں میں اس طرح کہا ہے کہ یہ دراصل تقابل ہے جس کی وجہ سے لوگ پریشان رہتے ہیں: It is by comparison that you suffer.

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader