دینِ انسانیت
Urdu book, p. 198
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک انسان اور دوسرے انسان کے درمیان فرق کا یہ نظام خود قدرت کا بنایا ہوا ہے۔ اس میں گہری مصلحت ہے۔ اس کی وجہ سے لوگوں کے درمیان چیلنج کی صورت حال قائم رہتی ہے۔ یہی چیلنج تمام ترقیوں کا زینہ ہے۔ انسانی سماج میں اگر چیلنج ختم ہو جائے تو اس کی ترقیاتی سرگرمیاں بھی ختم ہو جائیں گی۔ آدمی کو چاہیے کہ جب وہ اپنے سے کم والے کو دیکھے تو شکر ادا کرے۔ اور جب اپنے سے اوپر والے کو دیکھے تو مسابقت کے جذبہ کے تحت آگے بڑھنے کی کوشش کرے ۔ ان شاء الله اسلام کی تعلیمات میں سے ایک تعلیم یہ ہے کہ آدمی جب کسی کام کے بارے میں اپنے ارادہ کا اظہار کرے تو اس کے ساتھ ان شاء اللہ (اگر اللہ نے چاہا) بھی ضرور کہے۔ مثلاً ایک شخص دہلی سے بمبئی جانے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ اس طرح نہ کہے کہ کل میں بمبئی جاؤں گا، بلکہ یوں کہے کہ : ان شاء اللہ کل میں بمبئی جاؤں گا۔ یہ کلمہ گویا اس حقیقت واقعۃ کا اعتراف ہے کہ میری چاہ صرف اس وقت پوری ہوگی جب کہ اللہ کی چاہ بھی اس میں شامل ہو جائے۔ یہ اپنے چاہنے میں اللہ کے چاہنے کو ملانا ہے، اپنے ارادے کے ساتھ اللہ کے ارادے کو شامل کرنا ہے۔ اصل یہ ہے کہ انسان ارادہ کرتا ہے اور اس کے مطابق کوشش کرتا ہے۔ مگر کسی کوشش کی تکمیل صرف اس وقت ممکن ہوتی ہے جب کہ اس کے ساتھ اللہ کی رضامندی بھی شامل ہو جائے۔ اسی کو عربی میں اس طرح کہا گیا ہے کہ کوشش میری طرف سے ہے اور اس کی تکمیل اللہ کی طرف سے (السَّعْيُ مِنِّي وَالْإِتْمَامُ مِنَ اللَّه) ۔ اس اعتبار سے خدا اور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader