Urdu book · دینِ انسانیت

نصیحت، تعییب

Urdu book, p. 20

By Maulana Wahiduddin Khan

مزید یہ کہ ایسے ماحول میں جب ایک آدمی دوسرے آدمی کے خلاف کوئی تنقیدی بات کہے گا تو سننے والا اس کو اپنے لیے وقار کا مسئلہ نہیں بنائے گا۔ بلکہ اس کو ایک سادہ بات کے طور پر سنے گا۔ اس طرح یہ ممکن ہو جائے گا کہ دونوں کے درمیان کھلی گفتگو ہو۔ دونوں اپنی ذات کو الگ کر کے خالص حق تک پہنچنے کی کوشش کریں، اور پھر جو بات درست ہو اس کو بخوبی قبول کر لیں۔ اس کے برعکس تعییب (عیب جوئی) کے انداز میں صرف نقصان ہی نقصان ہے۔ عیب جوئی کرنے والے کی بات کو سن کر اگر دوسرا آدمی بھڑک اٹھے تو دونوں میں لڑائی شروع ہو جائے گی جو تمام برائیوں میں سب سے زیادہ سنگین برائی ہے۔ اور اگر بالفرض سننے والا متحمل مزاج ہے اور وہ اپنے خلاف عیب جوئی کو سن کر خاموش رہ جاتا ہے تب بھی وہ نقصان سے خالی نہیں۔ اول یہ کہ عیب لگانے والے نے اپنا وقت ضائع کیا۔ وہ اپنے اس وقت کو کسی صحت مند کام میں استعمال کر سکتا تھا۔ دوسرے یہ کہ معاشرہ کے اندر یہ بری روایت قائم ہوئی کہ ایک دوسرے کے خلاف بے بنیاد الزام تراشی کی جاسکتی ہے۔ اس معاملہ میں اسلام کی تعلیم اس حدیث میں ملتی ہے کہ جو شخص اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اس کو چاہیے کہ وہ بولے تو بھلی بات بولے ورنہ چپ رہے : مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصُمْتُ ( صحیح مسلم، حدیث نمبر 47 )۔ قول خیر وہ ہے جو ثابت شدہ حقیقت پر مبنی ہو، جس سے کوئی تعمیری فائدہ مقصود ہو۔ جو تمام تر اظہارِ حق کے جذبہ کے تحت نکلا ہو۔ جو اصلا خدا کے لیے ہو نہ کہ کسی انسان کے لیے۔ جو آدمی سنجیدہ ہو، جو اللہ سے ڈرتا ہو، اس کے دماغ میں جب کوئی بات آتی ہے تو وہ بولنے سے پہلے سوچتا ہے۔ اگر وہ محسوس کرتا ہے کہ اس کی بات فی الواقع کسی مثبت قدر کی حامل ہے تو وہ بولتا ہے، ورنہ وہ خاموشی اختیار کر لیتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page