Urdu book · دینِ انسانیت

دینِ انسانیت

Urdu book, p. 204

By Maulana Wahiduddin Khan

اس اسلامی سلوک کو ایک لفظ میں مثبت سلوک کہا جا سکتا ہے۔ یعنی جوابی معاملہ نہ کرتے ہوئے ہر ایک سے معتدل معاملہ کرنا۔ دوسروں کی روش خواہ کچھ بھی ہو، اپنے آپ کو ہمیشہ اعلیٰ انسانی سلوک پر قائم رکھنا۔ مومن وہ ہے جو برتر حقیقتوں میں جینے لگے۔ جس کے سوچنے کی سطح عام انسانوں سے اوپر اٹھ جائے۔ ایسے انسان کے اندر بے پناہ تحمل کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کو اندرونی طور پر اتنا سکون مل جاتا ہے جو باہر کے کسی بھی واقعہ سے نہیں ٹوٹتا۔ جہاں لوگ غصہ کرتے ہیں وہاں اسے لوگوں کے اوپر ترس آتا ہے، جہاں لوگ بھڑک جاتے ہیں وہاں وہ سمندر کی طرح پرسکون بنا رہتا ہے۔ قول سدید قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ : اے ایمان والو، اللہ سے ڈرو اور درست بات کہو۔ وہ تمہارے اعمال سدھارے گا اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا۔ اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے اس نے بڑی کامیابی حاصل کی (71-33:70)۔ اس قرآنی آیت میں ہمیشہ قولِ سدید (درست بات) کا حکم ہے۔ قولِ سدید کا مطلب ہے ٹھیک بات کہنا، عین وہی بات کہنا جو صحیح ہو اور واقعہ کے مطابق ہو۔ اصل حقیقت سے کچھ بھی ادھر یا ادھر ہٹی ہوئی نہ ہو۔ جس طرح تیر ٹھیک نشانہ کی طرف رخ کر کے چلایا جاتا ہے، اسی طرح قولِ سدید ٹھیک حقیقت کو سامنے رکھ کر بولا جاتا ہے۔ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کرتے ہوئے فرمایا: اللہُمَّ اھْدِ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page