Urdu book · دینِ انسانیت

دینِ انسانیت

Urdu book, p. 205

By Maulana Wahiduddin Khan

قلبی، وسدد لسانی (سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 1510؛ سنن الترمذی، حدیث نمبر 3551؛ مسند احمد، حدیث نمبر 1997)۔ اے اللہ، میرے دل کو ہدایت دے اور میری زبان کو قول سدید کی توفیق دے۔ اس دعا سے اندازہ ہوتا ہے کہ قول سدید کی اسلام میں کتنی زیادہ اہمیت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قول سدید کسی شخص کے مومن و مسلم ہونے کی پہچان ہے۔ انسانی کلام کی دو قسمیں ہیں۔ ایک غیر سدید کلام، دوسرا وہ جو پورے معنی میں سدید (درست) کلام ہو۔ سدید کلام وہ ہے جو عین مطابق حقیقت ہو۔ جو واقعات و حقائق پر مبنی ہو۔ جس کی پشت پر ٹھوس دلائل موجود ہوں۔ جس میں ساری رعایت زیر بحث معاملہ کی ہو، کسی بھی دوسری چیز کی رعایت اس میں شامل نہ ہو۔ جو تعصب سے پوری طرح پاک ہو۔ اس کے برعکس، غیر سدید کلام وہ ہے جس میں حقیقت کی رعایت شامل نہ ہو۔ جس کی بنیاد ظن و گمان پر رکھی گئی ہو، جس کی حیثیت محض رائے زنی کی ہو، نہ کہ حقیقتِ واقعہ کے اظہار کی۔ پہلے قسم کا کلام خدا کا پسندیدہ کلام ہے، اور دوسرے قسم کا کلام خدا کا مبغوض کلام۔ انسان کی انسانیت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ جب بھی بولے قول سدید کی زبان میں بولے۔ قولِ سدید کسی انسان کی انسانیت کا ثبوت ہے۔ اور قولِ غیر سدید اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کو بولنے والا انسانیت سے خارج ہے، خواہ بظاہر وہ انسان کی صورت میں دکھائی دیتا ہو۔ قابلِ پیشین گوئی کردار سب سے بہتر انسان کون ہے۔ اسلام کے نزدیک سب سے بہتر انسان وہ ہے، جو قابلِ پیشین گوئی کردار (predictable character) کا حامل ہو۔ جس کے متعلق پیشگی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page