Urdu book · دینِ انسانیت

قابل پیشین گوئی کردار

Urdu book, p. 206

By Maulana Wahiduddin Khan

طور پر یہ یقین کیا جا سکے کہ جب بھی اس سے سابقہ پڑے گا اس سے اچھائی ہی کا تجربہ ہوگا، جب بھی اس سے کوئی معاملہ پیش آئے گاوہ دوسروں کے لیے ایک سچا انسان ثابت ہوگا۔ روایات میں آتا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی ایک مجلس کے پاس کھڑے ہوئے، آپ نے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔ کیا میں تم کو تمہارے اچھے شخص اور تمہارے برے شخص کے بارے میں نہ بتاؤں۔ یہ سن کر لوگ خاموش رہے۔ تب آپ نے تین بار اپنے اس سوال کو دہرایا۔ اس کے بعد ایک شخص نے کہا کہ کیوں نہیں، اے خدا کے رسول، آپ ہم کو ہمارے اچھے شخص اور ہمارے برے شخص کے بارے میں ضرور بتائیے۔ آپ نے فرمایا کہ تم میں اچھا شخص وہ ہے جس سے بھلائی کی امید کی جائے اور جس کے شر سے لوگ مطمئن ہوں: خَيْرُكُمْ مَنْ يُرْجَى خَيْرُهُ وَيُؤْمَنُ شَرُّهُ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2263)۔ اس حدیث کے مطابق، بہترین انسان وہ ہے کہ جب کسی سے اس کا سابقہ پیش آئے تو اس سے دوسرے کو میٹھا بول ملے۔ وہ دوسرے کے لیے نفع بخش ثابت ہو۔ وہ دوسرے کو خوشی کا تحفہ دے سکے۔ اس سے دوسرے شخص کو ہمیشہ انصاف کا تجربہ ہو۔ وہ دوسرے کے حق میں ایک با اصول اور با کردار انسان ثابت ہو۔ اس کا یہ قابل پیشین گوئی کردار اس وقت بھی باقی رہے جب کہ دوسرے شخص کی طرف سے اس کو کوئی شکایت پہنچی ہو، جب کہ دوسرے شخص سے اس کو زیادتی کا کوئی تجربہ ہوا ہو۔ ایسے ناموافق حالات میں بھی اس کا حق پسندی کا مزاج باقی رہے۔ وہ اشتعال انگیزی کا جواب بھی صبر وسکون کے ساتھ دے۔ اس کے متعلق یہ امید کی جائے کہ دوسروں کی طرف سے برے سلوک کے باوجود وہ اپنے اصول کے مطابق ان کے ساتھ حسن سلوک کی روش پر قائم رہے گا۔ اس کا کردار ہمیشہ اعلیٰ انسانی امید پر پورا اترے گا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page