خیر پسند
Urdu book, p. 207
By Maulana Wahiduddin Khan
خیر پسند زَید ابن مُھَلْھَل نجد میں بعثت نبوی سے پہلے پیدا ہوئے۔ وہ شاعر تھے۔ اسی کے ساتھ انھوں نے شمشیر زنی اور گھوڑے کی سواری میں شہرت حاصل کی ۔ چنانچہ زید الخیل کہے جانے لگے۔ خیل عربی زبان میں گھوڑے اور گھوڑ سوار کو کہتے ہیں۔ انھوں نے اسلام سے پہلے فارس (شہ سوار) اور شمشیر زنی کی تعریف پر ایک پر جوش نظم کہی تھی۔ اس میں وہ اپنے قبیلہ کے بارے میں کہتے ہیں کہ میری قوم لوگوں کی سردار ہے۔ اور سردار ہی اس وقت قائد بنتا ہے جب کہ شعلہ بار ہتھیلیوں نے جنگ کی آگ کو بھڑکادیا ہو: وَقَوْمِي رُؤُوسُ النَّاسِ وَالرَّأْسُ قَائِدٌ إِذَا الحَرْبُ شَنَّتْهَا الأَكُفُّ المَسَاعِرُ زید الخیل ہجرت کے بعد مدینہ آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے اور اسلام قبول کرلیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید الخیل کا نام پسند نہیں کیا۔ آپ نے ان کا نام بدل کر زید الخیر رکھ دیا۔ 9ھ میں مدینہ میں ان کا انتقال ہوا۔ (لباب الآداب لأسامة بن منقذ، جلد 1، صفحہ 220)۔ اس واقعہ سے اسلام کا مزاج معلوم ہوتا ہے۔ اسلام کا مقصد آدمی کو "زید شہ سوار" بنانا نہیں ہے بلکہ اسلام کا مقصد یہ ہے کہ آدمی "زید صاحب خیر" بنے۔ قدیم عرب میں گھوڑ ا دوڑانا اور تلوار کا کمال دکھانا ہیروانہ کام سمجھا جاتا تھا۔ پیغمبر اسلام نے ان کے جذبات کو موڑا۔ اور ان کو یہ ذہن دیا کہ وہ خیر کے حامل بنیں، وہ خیر کے میدان میں بڑے بڑے کارنامے انجام دیں۔ وہ لوگوں کو موت کا تحفہ نہ دیں بلکہ وہ لوگوں کو زندگی کا تحفہ دینے کی کوشش کریں۔ آج کل کی زبان میں اگر کہا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اسلام کا خاص مقصد تخلیقی (creative) انسان پیدا کرنا ہے۔ اللہ پر ایمان آدمی کے اندر تخلیقی اوصاف کو جگا دیتا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader