Urdu book · دینِ انسانیت

افکار کا ٹکراؤ

Urdu book, p. 21

By Maulana Wahiduddin Khan

افکار کا ٹکراؤ قرآن (2:36) میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب آدم کو زمین پر بسایا تو پیشگی طور پر ان کو بتا دیا کہ نسل انسانی ایک دوسرے کی دشمن ہوگی (بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ) ۔ یہ گویا خدا کے تخلیقی نقشہ کا ایک اعلان تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ انسان جیسی ایک مخلوق جب دنیا میں آباد ہوگی تو اس کا یہاں آباد ہونا کوئی سادہ بات نہیں ہوگی۔ یہاں انسانوں کے درمیان اختلاف و نزاع کی صورت پیدا ہوگی جو بعض اوقات شدید ہو کر عداوت تک جا پہنچے گی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے لیے اس کے خالق نے ترقی کا کیا کورس مقرر کیا ہے۔ وہ کورس یہ ہے کہ انسانوں کے درمیان خیالات کا ٹکراؤ ہو۔ اس سے انسان کی ذہنی صلاحیتیں جاگیں گی۔ اس کی تخلیقیت میں اضافہ ہوگا۔ اس کے نتیجہ میں وہ نئی نئی دریافتیں کرتا چلا جائے گا۔ افکار کا ٹکراؤ اس کی سوئی ہوئی صلاحیتوں کو جگانے کا سبب بن جائے گا۔ اس پہلو سے دیکھیے تو اظہار رائے کی آزادی انتہائی طور پر ضروری ہے۔ کیوں کہ اگر آزادانہ اظہار رائے نہیں ہوگا تو خیالات کا ٹکراؤ نہیں ہوگا۔ اور جب خیالات کا ٹکراؤ نہیں ہوگا تو ذہنی جمود نہیں ٹوٹے گا۔ انسان نئی حقیقتوں تک پہنچنے میں ناکام رہے گا۔ مثلاً اسلام کے دور اول میں جب قرآت کے اختلاف کی بنا پر لوگ قرآن کی تلاوت مختلف انداز سے کرنے لگے تو لوگوں میں یہ بحث شروع ہوگئی کہ کون سی قرآت صحیح ہے اور کون سی قرآت غلط۔ اس کے نتیجہ میں کتابت کے فن نے ترقی کی۔ پھر ایسا ہوا کہ لوگ قرآن کے معانی میں اختلاف کرنے لگے۔ اس نے بھی ایک لسانی بحث کا آغاز کیا جو یہاں تک پہنچا کہ مسلمانوں میں عربی زبان کے ماہرین پیدا ہوئے ، اور عربی کی ڈکشنریاں تیار کی گئیں جو پہلے موجود نہ تھیں۔ اسی طرح لوگ شرعی امور میں طرح طرح کے اختلافات کرنے لگے۔ اس کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page