دینِ انسانیت
Urdu book, p. 212
By Maulana Wahiduddin Khan
ہو، وہ کسی کے لیے کسی بھی قسم کا کوئی چھوٹا یا بڑا مسئلہ پیدا نہ کرے ۔ یہی اخلاقی صفت کسی کے مومن ومسلم ہونے کی اصل پہچان ہے۔ پڑوسی کے ساتھ قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ: تم لوگ اچھا سلوک کرو، رشتہ دار پڑوسی کے ساتھ، اجنبی پڑوسی کے ساتھ اور پاس بیٹھنے والے کے ساتھ اور مسافر کے ساتھ (4:36)۔ پڑوسی کے حقوق کا حکم اس تفصیل کے ساتھ دینے کا مطلب یہ ہے کہ ہر قسم کے پڑوسی کے ساتھ اچھا سلوک کرنا واجب ہے، خواہ وہ قریب کا پڑوسی ہو یا دور کا پڑوسی ، خواہ وہ وقتی پڑوسی ہو یا مستقل پڑوسی، خواہ وہ گھر کا پڑوسی ہو یا ایسا پڑوسی ہو جو تعلیم یا کاروبار یا سفر کے دوران آدمی کے ساتھ ہو جائے ۔ جب بھی اور جہاں بھی ایک آدمی دوسرے آدمی کے ربط میں آئے تو لازم ہے کہ ایک شخص دوسرے شخص کے انسانی حقوق کا لحاظ کرے، ایک شخص دوسرے شخص کو کسی بھی اعتبار سے شکایت کا موقع نہ دے۔ ایک مسلمان کو فرد کے اعتبار سے بھی اچھا پڑوسی بننا ہے، اور وسیع تر سطح پر قومی اعتبار سے بھی اسے اچھا پڑوسی ہونے کا ثبوت دینا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے، کوئی بندہ مومن نہیں ہوسکتا یہاں تک کہ وہ اپنے پڑوسی کے لیے، یا یہ فرمایا کہ اپنے بھائی کے لیے، وہی پسند کرے جو وہ خود اپنے لیے پسند کرتا ہے: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّى يُحِبَّ لِجَارِهِ، أَوْ قَالَ : لِأَخِيهِ ، مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 45)۔ ایک اور روایت کے مطابق آپ نے فرمایا کہ وہ شخص جنت میں نہیں جائے گا جس کے شر سے اس کا پڑوسی امن میں نہ ہو : لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ (صحیح مسلم، حدیث نمبر (46)۔ ایک حدیث میں ہے کہ : خَيْرُ الأَصْحَابِ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرُهُمْ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader