دینِ انسانیت
Urdu book, p. 213
By Maulana Wahiduddin Khan
لِصَاحِبِهِ، وَخَيْرُ الجِيرَانِ عِندَ اللَّهِ خَيْرُهُمْ لِجَارِهِ۔ یعنی، اللہ کے نزدیک سب سے اچھا ساتھی وہ ہے جو اپنے ساتھی کے لیے اچھا ہو اور اللہ کے نزدیک سب سے اچھا پڑوسی وہ ہے جو اپنے پڑوسی کے لیے اچھا ہو (سنن الترمذی ، حدیث نمبر 1944)۔ آپ نے فرمایا: مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَاليَوْمِ الآخِرِ فَلَا يُؤْذِ جَارَهُ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6018)۔ یعنی، جو شخص اللہ پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کو نہ ستائے۔ اسی طرح آپ نے فرمایا: مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَاليَوْمِ الآخِرِ فَلْيُكْرِمْ جَارَهُ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6019)۔ یعنی، جو شخص اللہ پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کی عزت کرے۔ حدیث کا مطالعہ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رضي الله عنهما قَالَتْ: قَدِمَتْ عَلَيَّ أُمِّي وَهِيَ مُشْرِكَةٌ فِي عَهْدِ قُرَيْشٍ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي قَدِمَتْ عَلَيَّ وَهِيَ رَاغِبَةٌ أَفَأَصِلُهَا؟ قَالَ: نَعَمْ صِلِيهَا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3183؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 1003)۔ یعنی، اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میری (رضاعی ) ماں میرے پاس مدینہ آئیں ۔ اس وقت وہ شرک پر تھیں اور وہ قریش کی حلیف تھیں۔ میں نے پوچھا کہ اے خدا کے رسول میری مشرک ماں میرے پاس آئی ہے اور وہ مجھ سے کچھ چاہتی ہے۔ کیا میں انہیں صلہ رحمی کے طور پر کچھ دوں ۔ آپ نے فرمایا کہ ہاں، ان کو دو۔ یہ حدیث بظاہر والدین کے ساتھ حسن سلوک کے بارے میں ہے، خواہ وہ مشرک اور کافر ہی کیوں نہ ہو۔ حدیث کی کتابوں میں وہ اسی طرح کے باب کے تحت لکھی ہوئی ملے گی۔ مگر کسی حدیث کو سمجھنے کے لیے صرف اس کے ”ترجمہ باب“ کو دیکھنا کافی نہیں۔ اسی کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader