دینِ انسانیت
Urdu book, p. 219
By Maulana Wahiduddin Khan
جلد 7، صفحہ 306)۔ یعنی، سفیان بن عیینہ نے کہا کہ غور وفکر کرنا روشنی ہے جو تمہارے دل میں داخل ہوتی ہے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ جب آدمی کے اندر سوچ کا مادہ ہو تو ہر چیز میں اس کے لیے عبرت و نصیحت ہوگی۔ ایک روایت میں بتایا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ وہ آدمی مبارک ہے جس کا بولنا یاد الٰہی کا بولنا ہو۔ جس کی خاموشی غور وفکر کی خاموشی ہو اور جس کا دیکھنا عبرت کا دیکھنا ہو: أَنَّ عِیسَى بْنَ مَرْيَمَ كَانَ يَقُولُ: طُوبَى لِمَنْ كَانَ قِيلُهُ تَذَكُّرًا، وَصَمْتُهُ تَفَكُّرًا، وَنَظَرُهُ عِبْرَةً (تاریخ دمشق لابن عساكر، جلد 68، صفحہ 43)۔ دین کی اصل حقیقت ذکر و فکر ہے۔ ذکر و فکر سے مراد معروف قسم کے اور ادواشغال نہیں ہیں۔ ذکر و فکر ایک زندہ عمل ہے، جو شعور خداوندی کی زمین پر پیدا ہوتا ہے۔ جب ایک شخص پر اللہ کی حقیقت اپنے جلال و کمال کے ساتھ منکشف ہوتی ہے تو اس کے ذہن میں ایک نئی روشنی آجاتی ہے۔ اس کی روح ربانی جلووں سے بیدار ہوجاتی ہے۔ ایسا آدمی اندر سے باہر تک بدل جاتا ہے۔ اس کا چپ رہنا اور اس کا بولنا، اس کا دیکھنا اور اس کا سننا، اس کا چلنا اور اس کار کرنا، ہر چیز میں ایک ربانی نور پیدا ہو جاتا ہے۔ ساری دنیا اس کے لیے رزق رب کا دستر خوان بن جاتی ہے۔ یہی وہ ربانی انسان ہے جس کو مومن باللہ کہا جاتا ہے۔ ایک انسانی کردار قرآن میں ایک انسانی کردار کی مثال دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ: ان کو اس شخص کا حال سناؤ جس کو ہم نے اپنی آیتیں دی تھیں تو وہ ان سے نکل بھاگا۔ پس شیطان اس کے پیچھے لگ گیا اور وہ گمراہوں میں سے ہو گیا۔ اور اگر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader