افکار کا ٹکراؤ
Urdu book, p. 22
By Maulana Wahiduddin Khan
وجہ سے زبردست بحثیں شروع ہوئیں۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ اسلام میں علم تفسیر، علم حدیث، علم فقہ، علم عقائد اور دوسرے علوم باقاعدہ صورت میں مدوّن ہو گئے، وغیرہ۔ دور اول میں اگر یہ اختلافات پیش نہ آتے تو نہ ذہنوں میں بیداری پیدا ہوتی اور نہ علوم وفنون کا ارتقا ممکن ہوتا۔ پھر یہ عمل یہیں نہیں رکا۔ عباسی خلافت کے زمانہ تک پہنچ کر یہ ہوا کہ مسلمان ایشیا اور افریقہ کے پورے علاقہ میں پھیل گئے حتیٰ کہ وہ یورپ کے اندر داخل ہو گئے۔ اب ان کا فکری ٹکراؤ مصر، ایران، یونان، وغیرہ ملکوں کے خیالات وافکار سے ہوا۔ اس کے فطری نتیجہ کے طور پر مسلمانوں کے درمیان عقلی بحثیں شروع ہو گئیں۔ یہ فکری ٹکراؤ آخر کار یہاں تک پہنچا کہ ایک نہایت طاقت ور علم کلام مدون ہو گیا۔ یہ کام زیادہ تر عباسی خلیفہ المامون کے زمانہ میں ہوا۔ المامون نہایت فراخ دل تھا۔ اس نے اس زمانہ کے اہل علم کو اظہار خیال کی پوری آزادی دے رکھی تھی : وَأَطْلَقَ حُرِّيَّةَ الْكَلَامِ لِلْبَاحِثِينَ وَأَهْلِ الْجِدَالِ وَالْفَلَاسِفَةِ (الاعلام للزركلی، جلد 4، صفحہ 142)۔ پھر یہ سیلاب یہیں نہیں رکا۔ علم و تحقیق کا یہ عمل مزید آگے بڑھ کر دوسرے علمی و فنی شعبوں تک پہنچ گیا۔ مسلمانوں میں فلسفہ، طب، ریاضی، بحریات، فلکیات، ارضیات کے ماہرین پیدا ہوئے۔ انھوں نے وقت کے تمام سیکولر علوم میں امامت کا درجہ حاصل کر لیا۔ پہلے مسلمانوں کا فکری ٹکراؤ دوسری قوموں سے ہوا تھا۔ جب مسلمان علمی ترقی میں آگے بڑھ گئے تو اب دوسری قوموں کا فکری ٹکراؤ مسلمانوں کے ساتھ پیش آنے لگا۔ اس ٹکراؤ کے دوران مسلمانوں کے پیدا کردہ علوم اٹلی، اسپین، سسلی اور فرانس تک پہنچ گئے۔ اس کے نتیجہ میں یورپ میں نیا سائنسی دور شروع ہوا جو آخر کار موجودہ صنعتی انقلاب تک جا پہنچا۔ مغرب کا سائنسی اور صنعتی انقلاب براہ راست طور پر دور اول کی مسلم بیداری سے ٹکراؤ کا نتیجہ ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader