Urdu book · دینِ انسانیت

ایک انسانی کردار

Urdu book, p. 220

By Maulana Wahiduddin Khan

ہم چاہتے تو اس کو ان آیتوں کے ذریعہ سے بلندی عطا کرتے مگر وہ تو زمین کا ہو رہا اور اپنی خواہشوں کی پیروی کرنے لگا: وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ الَّذِي Āتَيْنَاهُ آيَاتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا فَأَتْبَعَهُ الشَّيْطَانُ فَكَانَ مِنَ الْغَاوِينَ۔ وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنَاهُ بِهَا وَلَكِنَّهُ أَخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ وَاتَّبَعَ هَوَاهُ (175-176:7)۔ اس آیت میں اس انسان کی مثال دی گئی ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ ایسے حالات فراہم کرے جس کے اندر رہ کر وہ ایک دینی زندگی گزارے اور آخرت میں خدا کا انعام حاصل کرے ۔ مگر وہ اس پر راضی نہ ہو اور حرص وہوس میں مبتلا ہو کر ایک ایسی زندگی کی طرف بھاگ کھڑا ہو جس میں دنیا کی چمک دمک تو ہو مگر اس کی دینی اور اخروی زندگی اجڑ جائے ۔ ایسے لوگوں کی بابت فرمایا کہ یہی گھاٹا اٹھانے والے لوگ ہیں: فَأُولَئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ (7:178)۔ ایک شخص کو خدا یہ موقع دے کہ وہ بقدر ضرورت روزی پر قناعت کر کے دینی زندگی گزارے مگر وہ بقدر عیش حاصل کرنے کی خاطر یہ کرے کہ دینی زندگی کو چھوڑ کر دنیوی زندگی کی طرف دوڑ پڑے تو اس کا یہ فعل مذکورہ قرآنی آیت کا مصداق ہوگا۔ اسی طرح ایک شخص کو مامور بن کر دین کا کام کرنے کا موقع ملے مگر وہ امیر بننے کے شوق میں اس کو استعمال نہ کر سکے۔ ایک شخص کو اقتدار سے باہر زبان و قلم کے ذریعہ دعوت دین کا کام کرنے کا موقع دیا جائے مگر وہ اقتدار کا منصب حاصل کرنے کی خاطر اپنے آپ کو اس سے محروم کر لے۔ ایک شخص کے لیے غیر مشہور حیثیت میں دین کی خدمت کرنے کے مواقع فراہم ہوں مگر اپنے آپ کو مشہور حیثیت میں دیکھنے کے پیچھے وہ تمام مواقع کو تباہ کر دے۔ جو لوگ ایسا کریں ان کی مثال اس انسان کی سی ہے جس کو خدا نے بلند حیثیت دینا چاہا مگر اس نے اپنے آپ کو پستی کی حالت میں گرا دیا۔ حرص دنیا کو چھوڑ کر ہی کوئی شخص دینی خدمت کا موقع اپنے لیے پا سکتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page