Urdu book · دینِ انسانیت

زاویہ نظر کا فرق

Urdu book, p. 221

By Maulana Wahiduddin Khan

زاویہ نظر کا فرق سورۃ البقرہ میں بنی اسرائیل کی قدیم تاریخ کا ایک واقعہ بیان کیا گیا ہے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وفات کے تقریباً تین سو سال بعد، اور حضرت داؤد سے کچھ پہلے، ان کے ایک نبی شموئیل (1100-1020) تھے جو شام کے ایک شہر رامہ میں رہتے تھے۔ بنی اسرائیل اس وقت دشمنوں سے گھیرے ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنے پیغمبر سے کہا کہ ہمارے لیے ایک ملک (بادشاہ) مقرر کر دیجیے۔ شموئیل جو اس وقت بوڑھے ہو چکے تھے، انہوں نے کہا کہ اللہ نے طالوت(Saul) کو تمہارے لیے بادشاہ مقرر کیا ہے (2:247)۔ اس کے بعد قرآن میں ہے کہ: بنی اسرائیل نے کہا کہ اس کو ہمارے اوپر بادشاہی کیسے مل سکتی ہے۔ حالانکہ اس کے مقابلہ میں ہم بادشاہی کے زیادہ حق دار ہیں، اور اس کو زیادہ دولت بھی حاصل نہیں۔ نبی نے کہا کہ اللہ نے تمہارے مقابلہ میں اس کو چنا ہے اور علم اور جسم میں اس کو زیادتی دی ہے۔ اور اللہ اپنی سلطنت جس کو چاہتا ہے دیتا ہے اور اللہ بڑی وسعت والا، جاننے والا ہے (2:247)۔ شموئیل نبی نے جس آدمی کو بنی اسرائیل کے اوپر سردار مقرر کیا، اس کا ایک پہلو یہ تھا کہ وہ اونچے خاندان کا نہیں تھا اور اس کے پاس زیادہ دولت بھی نہیں تھی، بنی اسرائیل نے جب اس کو اس اعتبار سے دیکھا تو وہ ان کے درمیان ایک کم تر انسان نظر آیا۔ ان کی سمجھ میں نہیں آیا کہ ایسا ایک کم تر انسان ہمارے اوپر سردار کس طرح بن سکتا ہے۔ مگر اس کی شخصیت کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ وہ جسمانی اعتبار سے ایک طاقت ور انسان تھا اور اس کے ساتھ ذہین اور مدبر تھا۔ اس دوسرے پہلو سے دیکھنے میں وہ سب سے زیادہ لائق تھا۔ کیونکہ سرداری کے لیے اسی قسم کی صلاحیت والے انسان کی ضرورت ہوتی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page