دینِ انسانیت
Urdu book, p. 222
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ زاویہ نظر کا معاملہ ہے۔ کسی چیز کو آپ ایک رخ سے دیکھیں تو وہ درست نظر آئے گی۔ اسی چیز کو دوسرے رخ سے دیکھیے تو وہ بالکل غلط معلوم ہونے لگے گی۔ یہی اس دنیا میں انسان کا امتحان ہے۔ یہاں صحیح زاویہ نظر والا آدمی ہدایت پائے گا، اور غلط زاویہ نظر والا آدمی بے راہ ہو کر رہ جائے گا۔ نصرت کا قانون قرآن میں ایک طرف : تَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ (33:3) کی تعلیم دی گئی ہے، اور دوسری طرف فرمایا کہ : خُذُوا حِذْرَكُمْ (4:71)۔ پہلی آیت کو اگر مطلق معنوں میں لیا جائے تو مومن کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ ہر معاملہ میں خدا پر بھروسہ کر کے بیٹھ جائے۔ کیونکہ جب اصل حقیقت یہ ہو کہ جو کچھ ہوتا ہے، خدا کے کیے سے ہوتا ہے تو اس کے بعد انسان کی اپنی تدبیر ایک غیر ضروری چیز معلوم ہونے لگتی ہے۔ بلکہ وہ اس بات کا ایک ثبوت ہے کہ آدمی کو خدا کی مدد پر پورا بھروسہ نہیں۔ اسی طرح دوسری آیت کو اگر اس کے لفظی اور ظاہری مفہوم کے اعتبار سے لے لیا جائے تو مومن کو بھی ٹھیک ویسے ہی اپنے بچاؤ کی یا اپنے معاملات کو درست کرنے کی تدبیر کرنا چاہیے جیسے کہ عام دنیا دار لوگ کرتے ہیں۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پہلی آیت کو اگر اس کے پورے مفہوم میں لیا جائے تو دوسری آیت غیر متعلق ہے۔ اور اگر دوسری آیت کو اس کے پورے مفہوم میں لیا جائے تو پہلی آیت کی مطابقت دوسری آیت کے ساتھ ناقابل فہم نظر آنے لگتی ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ان دونوں آیتوں میں کوئی تضاد نہیں۔ یہ ایک ہی معاملہ کے دو پہلو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader