Urdu book · دینِ انسانیت

دینِ انسانیت

Urdu book, p. 223

By Maulana Wahiduddin Khan

ہیں ۔ تَوَکَّلْ عَلَى اللَّہِ کی آیت خدا کی نسبت سے ہے اور خُذُوا حِذْرَکُمْ کی آیت بندے کی نسبت سے ۔ اصل یہ ہے کہ دنیا میں خدا کی جو مدد آتی ہے، وہ ہمیشہ اسباب کے پردے میں آتی ہے۔ اسباب کا پردہ ہٹا کر براہ راست انداز میں خدا کی مدد کبھی نہیں آتی۔ یہی وجہ ہے کہ مومن کو اپنی استطاعت کے مطابق پوری تدبیر کرنی پڑتی ہے۔ اگر وہ تدبیر نہ کرے تو گویا اس نے وہ حالات ہی فراہم نہیں کیے جس کے قالب میں اس کے لیے خدا کی مدد اترتی۔ یہ دو طرفہ عقیدہ آدمی کے اندر بے پناہ اعتماد پیدا کر دیتا ہے۔ ایک طرف وہ تدبیر میں کمی نہیں کرتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ خدا کی مدد جب بھی آئے گی تدبیر ہی کے اندر سے آئے گی ۔ دوسری طرف اس کو اپنی کامیابی کا بے پناہ یقین ہوتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ جب میں نے تدبیر کی شرط پوری کر دی تو خدا کی طرف سے آنے والی مدد بھی ضرور آ کر رہے گی۔ مومن کوشش کے معاملہ میں مجاہد ہوتا ہے اور نتیجہ کے معاملہ میں متوکل ۔ اثر قبول نہ کرنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ایک قول ہے کہ لوگوں سے اختلاط کرو اور یہ دیکھتے رہو کہ تم اپنے دین کو زخمی نہ کرلو ــــ قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: خَالِطِ النَّاسَ ، وَدِيْنَكَ لَا تُکَلِّمَنَّهُ (صحیح البخاری، جلد 8، صفحه 30) ۔ اسلام میں یہ پسندیدہ بات نہیں کہ آپ لوگوں سے ملنا جلنا چھوڑ دیں۔ بلکہ اسلام میں یہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page