اثر قبول نہ کرنا
Urdu book, p. 224
By Maulana Wahiduddin Khan
مطلوب ہے کہ آپ ہر قسم کے لوگوں سے ملتے رہیں۔ یہ اختلاط اس لیے بھی ضروری ہے کہ اسلام ایک دعوتی مذہب ہے، اور اختلاط کے بغیر دعوت کا کام نہیں ہوسکتا۔ اس کے علاوہ آپ کی شخصیت کی تکمیل کے لیے بھی اختلاط ضروری ہے۔ جب آپ لوگوں سے ملتے جلتے ہیں تو بار بار ایسے حالات پیش آتے ہیں جو آپ سے کسی ردعمل کا تقاضا کرتے ہیں۔ مثلاً کسی آدمی نے کڑوی بات کہہ دی۔ اب آپ کو اس کا جواب دینا ہے۔ کسی سے آپ نے ایک وعدہ کر لیا، اسے آپ کو پورا کرنا ہے۔ کسی کی کوئی امانت آپ کے پاس آگئی جسے آپ کو ادا کرنا ہے۔ اس طرح کے معاملات کے دوران ہی آپ تربیت پا کر اسلامی اخلاق کے مالک بنتے ہیں۔ تاہم اختلاط کا یہ نتیجہ نہیں ہونا چاہیے کہ آپ دوسروں کا غلط اثر قبول کر لیں۔ مثلاً ایک خاتون نے ایک صاحبہ کو اپنی سہیلی بنایا۔ خاتون سادہ انداز میں رہتی تھیں اور سہیلی کے اندر فیشن والا مزاج تھا۔ سہیلی نے بار بار خاتون سے کہنا شروع کیا کہ تم کیا یہ بیوہ عورتوں کی طرح بالکل سادہ کپڑے پہنتی ہو۔ اس طرح کی باتیں کر کے سہیلی نے مذکورہ خاتون کو رنگین کپڑوں کی طرف راغب کیا پھر ان کے ڈھیلے کپڑے کی جگہ چست کپڑے سلوائے۔ اس طرح سہیلی کے اثر سے خاتون کی ایک ایک چیز بدلنے لگی۔ یہاں تک کہ وہ باقاعدہ فیشن پسند ہوگئیں اور روزانہ ان کے کئی کئی گھنٹے صرف میک اپ کی نذر ہونے لگے۔ مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنی دینی شخصیت کا ہمیشہ محافظ بنا رہے۔ وہ دوسروں سے اثر قبول کرنے کے بجائے خود دوسروں پر اپنا اثر ڈالنے کی کوشش کرے۔ وہ لوگوں کے درمیان داعی بن کر رہے، نہ کہ خود دوسروں کا مدعو بن جائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader