مخلص ، منافق
Urdu book, p. 225
By Maulana Wahiduddin Khan
مخلص، منافق انسان وہ ہے جو با اصول انسان ہو۔ جس کا حال یہ ہو کہ جو وہ کہے وہی کرے، اور جو اسے کرنا ہے وہی کہے۔ جس کے قول اور فعل میں تضاد نہ پایا جائے۔ اخلاق کے اعتبار سے انسان کی دو قسمیں ہیں۔ ایک ، مخلص انسان، اور دوسرے، منافق انسان۔ مخلص انسان کے لیے دنیا میں بھی کامیابی ہے اور آخرت میں بھی کامیابی۔ منافق انسان دنیا میں بھی بے عزت ہے اور آخرت میں بھی بے عزت۔ مخلص انسان سنجیدہ انسان ہوتا ہے ۔ وہ حقیقت کا اعتراف کرنے والا ہوتا ہے۔ اس کا ایک سوچا سمجھا ہوا اصول ہوتا ہے۔ وہ زندگی میں جو روش بھی اختیار کرتا ہے، اسی اصول کی روشنی میں اختیار کرتا ہے۔ اس کے تمام معاملات اسی اصول کے تابع ہوتے ہیں۔ اس کے متعلق پیشگی طور پر رائے قائم کی جاسکتی ہے کہ کس وقت وہ کس قسم کا رویہ اختیار کرے گا۔ مخلص انسان انکار کر سکتا ہے مگر وہ دھوکا نہیں دے سکتا۔ وہ سخت گیر ہو سکتا ہے مگر وہ جھوٹا نہیں ہو سکتا۔ وہ مخالفت کر سکتا ہے مگر وہ کمینہ پن نہیں کر سکتا۔ یہ تو ممکن ہے کہ وہ وعدہ نہ کرے مگر جب وہ وعدہ کرلے گا تو ضرور اس کو پورا کرے گا۔ ایسا ہو سکتا ہے کہ وہ اقرار نہ کرے مگر اقرار کر لینے کے بعد ایسا نہیں ہو سکتا کہ وہ اپنے قول سے پھر جائے۔ منافق انسان اس کے بالکل برعکس صفات والا انسان ہوتا ہے ۔ وہ قابل پیشین گوئی کردار کا حامل نہیں ہوتا۔ وہ کہتا ہے مگر کرتا نہیں ۔ وہ وعدہ کرتا ہے مگر وعدہ کو پورا کرنے سے اسے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔ اس کا قول کچھ ہوتا ہے اور اس کا عمل کچھ۔ وہ خوبصورت باتوں کا بادشاہ ہوتا ہے مگر وہ خوب صورت کردار کا پیکر نہیں ہوتا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader