Urdu book · دینِ انسانیت

دینِ انسانیت

Urdu book, p. 226

By Maulana Wahiduddin Khan

منافق انسان کی زندگی اصول کے بجائے مصلحت اور مفاد کے تابع ہوتی ہے۔ وہ ہر ایک سے اس کی پسند کی بولی بولتا ہے۔ ہر موقع پر حالات کو پرکھ کر عمل کرتا ہے۔ وہ صرف اس مقام پر متحرک ہوتا ہے جہاں اس کو کسی قسم کا ذاتی فائدہ نظر آئے اور جہاں ذاتی فائدہ نہ ہو وہاں وہ حرکت میں نہیں آتا۔ مخلص انسان انسان ہے اور منافق انسان بے انسان۔ پاکیزہ روش قرآن میں اہل جنت کے تذکرہ کے ذیل میں فرمایا گیا ہے کہ ــ بے شک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیا، اللہ ان کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی ۔ ان کو وہاں سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جائیں گے اور وہاں ان کی پوشاک ریشم ہوگی ۔ (یہ وہ لوگ ہیں جن کو دنیا میں) پاکیزہ قول (قول طیب) کی ہدایت بخشی گئی تھی۔ اور ان کو خدائے حمید کا راستہ (صراط الحمید) دکھایا گیا تھا (24-23 : 22)۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ دو چیزیں ہیں جو کسی کے لیے جنت میں داخلہ کا ذریعہ بنیں گی ۔ ایک، اعتراف حق، اور دوسرے، اتباع حق۔ جب کسی سماج میں حق کی دعوت اٹھتی ہے تو ایک قسم کے لوگ وہ ہوتے ہیں جن کا رد عمل منفی انداز میں ہوتا ہے۔ وہ قول غیر طیب کے ذریعہ اس کا استقبال کرتے ہیں۔ وہ اپنے بگڑے ہوئے مزاج کی بنا پر اس کو عزت کا سوال بنا کر اسے رد کر دیتے ہیں۔ وہ سوچنے لگتے ہیں کہ اگر میں نے اس کو مان لیا تو اس کے بعد میری بڑائی ختم ہو جائے گی ۔ یہ سرکشی کا رد عمل ہے۔ اور جو لوگ دعوت حق کے مقابلہ میں سرکشی کا رد عمل پیش کریں وہ اپنے اس رد عمل سے جنت کا استحقاق کھورہے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page