دینِ انسانیت
Urdu book, p. 227
By Maulana Wahiduddin Khan
دوسرا انسان وہ ہے جو قولِ طیب کے ذریعے دعوت حق کا استقبال کرتا ہے ۔ جب وہ محسوس کرتا ہے کہ اس کی اندرونی آواز اس کے حق ہونے کی گواہی دے رہی ہے تو اس کے بعد کوئی بھی دوسری چیز اس کے لیے قبولِ حق میں رکاوٹ نہیں بنتی۔ وہ کھلے طور پر اس کا اعتراف کر کے اپنے آپ کو اس میں شامل کر دیتا ہے۔ دعوتِ حق کے مقابلہ میں یہ دو قسم کا رد عمل دو الگ الگ عملی نتیجے پیدا کرتا ہے۔ جو لوگ اس کے مقابلہ میں قولِ غیر طیب کا مظاہرہ کریں وہ ان کی پوری زندگی کو غلط رخ پر ڈالنے کا سبب بن جاتا ہے۔ ان کی ہر روش اور ان کے ہر عمل سے حق پسندی کی روح نکل جاتی ہے۔ اس کے برعکس ، جو لوگ قولِ طیب اور کلمۂ اعتراف کے ذریعہ دعوتِ حق کا استقبال کرتے ہیں ان کی پوری زندگی میں سچائی کا نکھار آ جاتا ہے۔ وہ اپنے ضمیر کے مطابق چلتے ہیں۔ ان کا ہر عمل حق اور عدل کے رنگ میں رنگا ہوا ہوتا ہے۔ مومن کا طریقہ صحیح البخاری کی ” کتاب التفسیر “ میں قرآن سے متعلق بہت سی روایتیں جمع کی گئی ہیں۔ سورۃ الحجرات کی تفسیر کے تحت ایک واقعہ دو واسطوں سے نقل کیا گیا ہے۔ ابن ابی ملیکہ ( وفات 117 ھ ) کہتے ہیں کہ قریب تھا کہ دو اصحاب خیر ہلاک ہو جائیں ، یعنی ابوبکر اور عمر ۔ ان دونوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنی آوازیں بلند کیں ۔ یہ اس وقت ہوا جب کہ بنو تمیم کا وفد مدینہ آیا۔ ابو بکر نے کہا کہ القعقاع بن معبد کو ان کا امیر بنائیے۔ عمر نے کہا کہ الاقراع بن حابس کو ان کا امیر بنائیے۔ پھر ابو بکر نے عمر سے کہا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader